فردوس خان 
  گردے کی پتھری اب ایک عام بیماری بن چکی ہے۔  پتھری ناقابل برداشت درد کا باعث بنتی ہے۔  پیشاب میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔  اس کی وجہ سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
  ڈاکٹروں کے مطابق کیلشیم، آکسالیٹ، یورک ایسڈ اور سیسٹائن جیسے مادے پیشاب میں جمع ہو کر کرسٹل بنتے ہیں۔  پھر یہ کرسٹل گردے سے جڑ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔  ان میں 80 فیصد پتھر کیلشیم سے بنتے ہیں اور کچھ پتھر کیلشیم آکسالیٹ اور کچھ کیلشیم فاسفیٹ سے بنتے ہیں۔  باقی پتھری یورک ایسڈ، انفیکشن اور سیسٹائن سے بنتی ہے۔
  گردے کی پتھری کے بہت سے علاج ہیں۔  آج ہم کچھ ایسے ہی علاج کے بارے میں بتا رہے ہیں، جن سے لوگوں کو پتھری سے نجات مل گئی۔
  پتھری کا مریض کتنے دنوں میں اس سے نجات پاتا ہے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ گردے میں کتنی اور کس سائز کی پتھری ہے۔  اس کے ساتھ خوراک بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔  مثلاً پتھری کے مریض کو چاہیے کہ کیلشیم اور آئرن سے بنی چیزیں کم کریں۔  اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔
  زیتون، شہد اور لیموں
  ایک چمچ زیتون کا تیل، ایک چمچ شہد اور ایک لیموں کا رس ایک گلاس پانی میں ملا کر روزانہ پینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر آجاتی ہے۔
  کھیرا
  دیسی کھیرا پتھری کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔  دیسی کھیرے کو چھلکے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کھایا جائے۔  اس کی وجہ سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  مولی
  پتھری کے مریضوں کے لیے بھی مولی بہت فائدہ مند ہے۔  مولی کو سبزی یا سلاد کی شکل میں زیادہ سے زیادہ کھانا چاہیے۔  اس کی وجہ سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  سوڈا
  سوڈا پتھری کے مریضوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔  سوڈا مسلسل پینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  اب بات کرتے ہیں ہومیوپیتھی دوا کی۔  Berberis Vulgaris Mother Tincture Q کے 5-5 قطرے دن میں تین بار لینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر آجاتی ہے۔
  مزید مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ईद मिलाद उन नबी की मुबारकबाद

ईद मिलाद उन नबी की मुबारकबाद

फ़िरदौस ख़ान की क़लम से

Star Web Media

ई-अख़बार पढ़ें

ब्लॉग

एक झलक

Followers

Search

Subscribe via email

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

साभार

इसमें शामिल ज़्यादातर तस्वीरें गूगल से साभार ली गई हैं