Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

 کربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر سورج آگ کے گولے کی طرح جھلسا رہا تھا۔ محرم سن 61 ہجری کے وہ دن تھے جب عراق کے میدانوں میں گرمی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی۔ دریائے فرات کے کنارے ہوا کے جھونکے تو چلتے تھے، مگر میدانِ کربلا کے خیموں تک پہنچتے پہنچتے وہ بھی جیسے آگ کا روپ دھار لیتے تھے۔ دور افق پر ریت کے ذرے سورج کی شعاعوں سے چمکتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین اور آسمان کے درمیان ایک دہکتا ہوا پردہ تن گیا ہو۔

کربلا، جو اس زمانے میں کوفہ سے شمال مغرب کی سمت واقع ایک نسبتاً غیر آباد میدان تھا، فرات کے کنارے پھیلے ہوئے کھجوروں کے جھنڈوں، چھوٹی آبادیوں اور چراگاہوں کے درمیان واقع تھا۔ اس کے مشرق میں صحرا پھیلا ہوا تھا جبکہ مغرب میں فرات کی نیلگوں موجیں زندگی کا پیغام دیتی تھیں۔ یہی دریا صدیوں سے عراق کی تہذیبوں کا محافظ تھا۔ اس کے کنارے بستیاں آباد تھیں، قافلے گزرتے تھے، کھجوروں کے باغ لہلہاتے تھے اور کسان اپنی زمینوں کو سیراب کرتے تھے۔ مگر محرم کے ان دنوں میں یہی دریا ایک ایسے المیے کا خاموش گواہ بننے والا تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکی۔

امام حسینؑ کے خیموں میں بچے پیاس سے نڈھال تھے۔ عورتوں کے چہروں پر صبر کی چادر تھی لیکن آنکھوں میں فکر کی نمی نمایاں تھی۔ پانی کے مشکیزے خالی ہو چکے تھے۔ چند دن پہلے تک فرات کا پانی دستیاب تھا، مگر سات محرم کو ابن زیاد کے حکم پر عمر بن سعد کے لشکر نے دریا تک رسائی بند کر دی۔ چار ہزار کے قریب سپاہیوں کو فرات کے کنارے تعینات کر دیا گیا تاکہ امام حسینؑ کے ساتھی پانی حاصل نہ کر سکیں۔

اس ماحول میں ایک شخصیت ایسی تھی جسے دیکھ کر اہلِ حرم کے دل مضبوط ہو جاتے تھے۔ یہ حضرت عباس بن علیؑ تھے۔ آپؑ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے سوتیلے بھائی تھے۔ آپؑ کی والدہ حضرت ام البنینؑ تھیں، جو عرب کے ایک بہادر اور معزز قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت عباسؑ بچپن ہی سے شجاعت، وفاداری اور ایثار کے اوصاف میں ممتاز تھے۔ آپؑ کا قد بلند، جسم مضبوط اور شخصیت رعب دار تھی۔ عرب کے جنگجو آپؑ کو "قمر بنی ہاشم" یعنی بنی ہاشم کا چاند کہا کرتے تھے۔

کربلا میں حضرت عباسؑ کے ہاتھ میں جو علم تھا، وہ محض ایک جھنڈا نہیں تھا۔ عرب معاشرے میں علم لشکر کی عزت، استقامت اور وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے دوران اگر علم گر جاتا تو اسے شکست کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ اسی لیے علم ہمیشہ سب سے زیادہ بہادر اور قابلِ اعتماد شخص کے سپرد کیا جاتا تھا۔ امام حسینؑ نے یہ عظیم ذمہ داری حضرت عباسؑ کو سونپی۔ اس انتخاب میں صرف خاندانی تعلق نہیں بلکہ بے مثال وفاداری اور شجاعت بھی شامل تھی۔

محرم کے ابتدائی دنوں میں جب یزیدی لشکر چاروں طرف سے جمع ہو رہا تھا، حضرت عباسؑ علم اٹھائے امام حسینؑ کے خیموں کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ جب رات کی تاریکی میدان پر اترتی اور دشمن کے خیموں میں مشعلیں جل اٹھتیں تو حضرت عباسؑ پہرے پر موجود ہوتے۔ آپؑ کی موجودگی اہلِ بیتؑ کے لیے تحفظ اور اطمینان کا ذریعہ تھی۔

وقت گزرتا گیا اور پیاس کی شدت بڑھتی گئی۔ خیموں میں بچوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ "العطش، العطش" کی صدائیں فضا میں گونجتی تھیں۔ چھوٹے بچے خشک ہونٹوں کے ساتھ پانی مانگتے تھے۔ یہ منظر کسی بھی حساس دل کو پگھلا دینے کے لیے کافی تھا۔

حضرت عباسؑ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امام حسینؑ کے ساتھی بھوک اور پیاس برداشت کر سکتے ہیں، مگر معصوم بچوں کی تکلیف دیکھنا آسان نہیں۔ ایک وقت آیا جب آپؑ نے امام حسینؑ سے اجازت طلب کی کہ فرات سے پانی لانے کی کوشش کریں۔ روایات کے مطابق امام حسینؑ نے اجازت عطا فرمائی۔

میدانِ کربلا کا منظر اس وقت نہایت عجیب تھا۔ ایک طرف ہزاروں مسلح سپاہی تھے اور دوسری طرف چند درجن وفادار جانثار۔ حضرت عباسؑ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ ہاتھ میں علم تھا اور دل میں اہلِ بیتؑ کی پیاس بجھانے کا عزم۔ آپؑ کا رخ فرات کی جانب تھا۔

فرات تک جانے والا راستہ دشمن کے سپاہیوں سے بھرا ہوا تھا۔ گرد و غبار اڑ رہا تھا، تلواریں چمک رہی تھیں اور نیزوں کے سائے زمین پر پھیل رہے تھے۔ مگر حضرت عباسؑ کی ہیبت ایسی تھی کہ بہت سے سپاہیوں کے دل لرز اٹھے۔ آپؑ نے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے پیش قدمی کی۔ عرب کے جنگی آداب میں انفرادی شجاعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور حضرت عباسؑ کی بہادری پہلے ہی مشہور تھی۔

بالآخر آپؑ فرات کے کنارے پہنچ گئے۔

وہی فرات جس کی موجیں سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ ٹھنڈا پانی کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔ کئی دنوں کی پیاس کے بعد پانی آپؑ کے سامنے تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے پانی ہاتھ میں لیا۔ شدتِ پیاس اپنی جگہ موجود تھی۔ جسم گرمی سے جھلس رہا تھا۔ ہونٹ خشک تھے۔ مگر اسی لمحے آپؑ کو امام حسینؑ اور خیموں میں موجود بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔

یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین ایثار کے مناظر میں سے ایک ہے۔

آپؑ نے پانی کو دیکھا، مگر خود نہ پیا۔ گویا دل نے کہا کہ جب مولا حسینؑ اور اہلِ حرم پیاسے ہیں تو عباسؑ کیسے سیراب ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپؑ نے پانی واپس دریا میں بہا دیا اور مشکیزہ بھر لیا۔

یہ محض پانی نہ تھا بلکہ امید تھی۔ خیموں میں موجود بچوں کے لیے زندگی کی ایک کرن تھی۔ حضرت عباسؑ مشکیزہ بھر کر واپس روانہ ہوئے۔ اب دشمن کو احساس ہو چکا تھا کہ اگر یہ پانی خیموں تک پہنچ گیا تو ان کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔

چنانچہ چاروں طرف سے حملے شروع ہو گئے۔

تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے آپؑ کے دائیں بازو پر وار کیا گیا۔ شدید زخم لگا اور بازو جدا ہو گیا۔ مگر حضرت عباسؑ نے علم اور مشکیزے کو سنبھالے رکھا۔ آپؑ کی توجہ اپنی ذات پر نہیں بلکہ پانی کو خیموں تک پہنچانے پر تھی۔

پھر دوسرا حملہ ہوا اور بایاں بازو بھی جدا کر دیا گیا۔ عام انسان کے لیے اس مقام پر لڑائی جاری رکھنا ناممکن ہوتا، مگر حضرت عباسؑ کی استقامت غیر معمولی تھی۔ آپؑ نے مشکیزے کو اپنے جسم کے ساتھ محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور آگے بڑھتے رہے۔

گرد و غبار سے فضا بھر گئی تھی۔ دشمن ہر سمت سے حملہ آور تھا۔ تیر برس رہے تھے۔ اسی دوران ایک تیر مشکیزے پر لگا اور پانی بہنے لگا۔ وہ پانی جسے اہلِ حرم تک پہنچنا تھا، ریت پر بکھرنے لگا۔

یہ منظر حضرت عباسؑ کے لیے شاید جسمانی زخموں سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔

پھر ایک اور ضرب سر پر لگی۔ آپؑ گھوڑے سے زمین پر آ گئے۔ میدانِ کربلا کی ریت آپؑ کے خون سے رنگین ہو گئی۔ علم گر چکا تھا، مگر وفاداری کا پرچم ہمیشہ کے لیے بلند ہو گیا تھا۔

روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے امام حسینؑ کو آواز دی۔ امام حسینؑ اپنے بھائی کی طرف آئے۔ یہ لمحہ تاریخ کے سب سے دردناک مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ دو بھائی، جنہوں نے بچپن مدینہ کی گلیوں میں گزارا تھا، آج کربلا کی ریت پر آخری بار ایک دوسرے کے قریب تھے۔

حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ نے ایک ایسا جملہ فرمایا جو تاریخ میں محفوظ ہو گیا: "اب میری کمر ٹوٹ گئی۔"

یہ الفاظ صرف بھائی کی جدائی کا اظہار نہیں تھے بلکہ اس عظیم ستون کے گر جانے کا اعلان تھے جو پورے قافلے کے حوصلے کا مرکز تھا۔

حضرت عباسؑ کی شخصیت کو صرف ایک جنگجو کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ آپؑ وفاداری، ایثار، اطاعت اور خدمت کی ایسی مثال ہیں جو انسانی تاریخ میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپؑ نے اپنی جان کسی ذاتی مقصد کے لیے نہیں دی بلکہ اپنے امام، اپنے دین اور حق کے لیے قربان کی۔

فرات کا واقعہ دراصل پانی کی جنگ نہیں تھا۔ یہ وفاداری اور خود غرضی کے درمیان معرکہ تھا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں ہو کر پانی پر پہرہ دیا، اور دوسری طرف ایک ایسا انسان تھا جس نے شدید پیاس کے باوجود پانی کو اپنے ہونٹوں تک نہ آنے دیا۔

کربلا کے بعد صدیوں گزر چکی ہیں۔ فرات آج بھی بہتا ہے۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد ہیں، کھجوروں کے باغ لہلہاتے ہیں اور قافلوں کی جگہ جدید سڑکیں آ چکی ہیں۔ مگر جب بھی محرم آتا ہے، تاریخ کا وہ منظر پھر زندہ ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ایک بلند قامت علمبردار آ جاتا ہے جو فرات کے کنارے کھڑا ہے، ہاتھ میں پانی ہے، مگر دل میں حسینؑ کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اپنی پیاس بھول جاتا ہے۔

حضرت عباسؑ کا علم آج بھی صرف ایک جھنڈا نہیں بلکہ وفا کی علامت ہے۔ یہ اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ حق کے راستے میں قربانی دی جا سکتی ہے، مگر اصولوں کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا کی ریت پر گرنے والا وہ علم بظاہر زمین پر آ گیا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ہمیشہ کے لیے انسانیت کے آسمان پر بلند ہو گیا۔ اور فرات کی موجیں آج بھی گویا یہی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا میں بہت سے بہادر گزرے، بہت سے سپہ سالار آئے، مگر وفاداری کا جو باب حضرت عباسؑ نے اپنے خون سے لکھا، اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں بہت کم ملتی ہے۔

Courtsy تنہائی اور میں 



 ذکرِ الٰہی کی فضیلت
الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
معزز حاضرینِ کرام!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سب سے عظیم نعمت عطا فرمائی ہے وہ اپنی یاد ہے، جسے ہم ذکر کہتے ہیں۔ ذکر صرف تسبیح کے دانوں کا نام نہیں، بلکہ دل، زبان اور عمل سے اللہ کو یاد رکھنے کا نام ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔"
آج کا انسان بےچینی، خوف، ڈپریشن اور پریشانی کا شکار ہے، حالانکہ اس کا علاج نہ مہنگی دواؤں میں ہے اور نہ دنیاوی عیش میں، بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے۔ جس دل میں ذکر ہوتا ہے، وہ دل زندہ ہوتا ہے، اور جس دل میں ذکر نہیں، وہ دل مردہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔"
ذکر کی برکت یہ ہے کہ:
ذکر گناہوں کو مٹا دیتا ہے
ذکر رزق میں برکت لاتا ہے
ذکر شیطان کو دور بھگاتا ہے
ذکر فرشتوں کو قریب کرتا ہے
اور ذکر کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاذْكُرُوْنِيْ اَذْكُرْكُمْ
"تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"
سوچئے! جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ خود بندے کو یاد فرماتا ہے، اس سے بڑی عزت اور کیا ہو سکتی ہے؟
آخر میں یہی عرض ہے کہ آؤ ہم اپنے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے آباد کریں، اپنی زبانوں کو تسبیح سے تر رکھیں، اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی یاد سے روشن بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔
Naqshbandi Haider
x


ये सर्द रिश्तों का ऐसा मौसम है
सब हैं तन्हा  !
ये टेलीवीज़न, ये कम्पयूटर, ये नेट, गूगल, 
ये वाट्सेप है, ये फ़ेसबुक है
ये सारे असबाब साथ लेकर
सब अपनी मसरूफ़ ज़िन्दगी की
रज़ाइयों में घुसे हुए हैं 
ज़मीन से आसमान तक अब
फ़क़त तरंगें भरी हुई हैं 
घना है कोहरा  !
ये ऐसा कोहरा है, 
जिसमें जज़बात जम गए हैं
गले से लगना तो दूर की बात
लम्स हाथों के गुम गए हैं  !
ये सर्द रिश्तों की ऐसी रुत है ...
मौहब्बतों और शफ़क़तों की
उजास लेकर तमाम सूरज चले गए हैं
वो गर्मजोशी के खिलते फूलों की
भीनी ख़ुशबू कहीं नहीं है
वो रंग बातों का, उड़ती ख़ुशरंग तितलियों सा, 
कहीं नहीं है
ये शामे तन्हाई ये ख़मोशी,                      
है सारा मन्ज़र मिटा मिटा सा
चराग़े हस्ती की लौ है मद्धम
ये जल रहा है मगर बुझा सा           
उदास दिल ढूँढता है अब भी
मौहब्बतों का हसीन मौसम... 
वो जिन्दगी देते सारे रिश्ते... 
तड़प के, चाहत के प्यारे रिश्ते...
शमीम ज़हरा


سرد رشتوں کا موسم
یہ سرد رشتوں کا ایسا موسم ہے
         سب ہیں تنہا
         یہ ٹیلیویزن، یہ کمپیوٹر، یہ نیٹ ،گوگل،
         یہ واٹس ایپ ہے، یہ فیسبک ہے 
         یہ سارے اسباب ساتھ لیکر
         سب اپنی مصروف زندگی کی 
        رضائیوں میں گھسے ہوئے ہیں   
         زمین سے آسمان تک اب 
        فقط ترنگیں بھری ہوئی ہیں
        گھنا ہے کہرا
        یہ ایسا کہرا ہے 
        جس میں جذبات جم گئے ہیں
        گلے سے لگنا تو دور کی شے ہے
        لمس ہاتھوں کے گم گئے ہیں
        یہ سرد رشتوں کی ایسی رت ہے۔۔۔۔
        محبتوں اور شفقتوں کی اجاس لیکر
        تمام سورج چلے گئے ہیں
        وہ گرمجوشی کے کھلتے پھولوں کی 
        بھینی خوشبو، کہیں نہیں ہے               
        وہ رنگ باتوں کا، اڑتی خوشرنگ تتلیوں سا
        کہیں نہیں ہے !!
        یہ شام تنہائی، یہ خموشی، 
        تمام منظر مٹا مٹا سا 
        چراغ ہستی کی لو ہے مدھم، 
        یہ جل رہا ہے مگر بجھا سا 
         اداس دل ڈھونڈتا ہے اب بھی
         محبتوں کے حسین موسم ۔ ۔
         وہ زندگی دیتے سارے  رشتے۔۔۔۔
         تڑپ کے چاہت کے پیارے رشتے۔۔۔
شمیم زہرا



सर्द हवायें भीगी शाम दिसम्बर की
यख़ बस्ता रुत तेरे नाम दिसम्बर की 
-अज़ीज़ एजाज़ 

 


نظم
میرے محبوب
عمر کی
تپتی دوپہری میں
گھنے درخت کی
چھاؤں ہو تم
سلگتی ہوئی
شب کی تنہائی میں
دودھیا چاندنی کی
ٹھنڈک ہو تم
زندگی کے
بنجر سحرا میں
آبِ زم زم کا
بہتا دریا ہو تم
میں صدیوں کی
پیاسی دھرتی ہوں
برستا ،بھیگتا
ساون ہو تم
مجھے جوگن کے
من مندر میں بسی
مورت ہو تم
میرے محبوب
میرے تابندہ خیالوں میں
کبھی دیکھو
سراپا اپنا
میں نے
دنیا سے چھپا کر
برسوں
...تمہاری پرستش کی ہے
فردوس خان-


अब तुम को कैसा लगता है
जाड़ों के मौसम का सूरज
गर्मी की रातों का चन्दा
बारिश तुम को बहुत पसन्द थी
जब भी बादल घिर आते थे
लम्बी काली घनेरी ज़ुल्फें
अपने कांधों पर बिखराकर
आंगन में ऐसे फिरती थीं
जैसे कोई हिरनी बन में
देख के काले काले बादल
अपना आपा खो बैठी हो
अब तुमको कैसा‍‍------
इक दिन टेलीफोन पे तुमने
नाम मिरा "साहिल" रक्खा था
मैंने हंसकर ये पूछा था
नाम मिरा साहिल क्यों रक्खा
इठला कर तुम ये बोली थीं
हमने अपने दिल की किश्ती
प्यार के दरिया में छोड़ी है
किश्ती को तो इक न इक दिन
साहिल पर रुकना होता है-----
चारों जानिब सन्नाटा है
पलकों पर जुगनू रक्खे हैं
तन्हा बैठा सोच रहा हूँ
तुमने झूट कहां बोला था
मैं ही आज समझ पाया हूँ
साहिल एक कहाँ होता है
साहिल भी तो "दो " होते हैं
-फा़खि़र अदीब
                    ساحل
           اب تمکو کیسا لگتا ہے
جاڈوں کے موسم کا سورج
گرمی کی راتوں کا چندا
بارش تمکو بہت پسند تھی
جب بھی بادل گھر اَتے تھے
لمبی کالی گھنیری ذلفیں
اپنے کاندھوں پر بکھرا کر
اَنگن میں ایسے پھرتی تھیں
جیسے کوی ہرنی بن میں
دیکھ کے کالے کالے بادل
اپنا اَپا کھو بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اب تمکو کیسا لگتا ہے
-----
اک دن ٹیلیفون پے تم نے
نام مرا ساحل رکھا تھا  
مینے ہنس کر یہ پوچھا تھ
نام مرا "ساحل" کیوں رکھا
اٹھلا کر تم یہ بولی تھیں
ہم نے اپنے دل کی کشتی
پیار کے دریا میں چھو ڈی ہے
کشتی کو تو اک نہ اک دن
ساحل پر رکنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ 
چاروں جانب سناٹہ ہے
پلکوں پر جگنو رکھے ہیں
تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوں 
ساحل" ایک کہاں ہوتا "
ساحل بھی تو دو ہوتے ہیں
فاخر ادیب



सुरमई शाम पे बिखरा था अभी रंगे शफ़क
ज़ेहन से महव थे कितने ही परेशान सवाल
पुरसुकूँ वक़्त में धुन्धला सी गई  थी दहशत
गुम हुए जाते थे दिल तोड़ते लम्हों के ख़्याल।
सामने धीमे से उतरी है सियह रात अभी
इक घने पेड़ के पीछे हुआ रौशन महताब।
हर नए पल में बदलते हुए कुछ मनज़र हैं
चाँद है या कि खुली है कहीं जादूई किताब।
चौदहवीं रात का शफ़्फ़ाफ़ चमकता हुआ चाँद
आसमाँ ता बा ज़मीं नूर का बहता दरिया।
जैसे चुपके से हरेक शय पे कोई 'इस्म' पढ़े
और कुछ देर में हो जाए सुनहरी दुनिया।
-शमीम ज़हरा




ایک اسم
سرمئی شام پے بکھرا تھا ابھی رنگ شفق
ذہن سے محو تھے کتنے ہی پریشان سوال
پرسکوں وقت میں دھندلا سی گئی تھی دہشت
گم ہوئے جاتے تھے دل توڑتے لمحوں کے خیال
سامنے دھیمے سے اتری تھی سیاہ رات ابھی
اک گھنے پیڑ کے پیچھے ہوا روشن مہتاب
ہر نئے پل میں بدلتے ہوئے کچھ منظر ہیں
چاند ہے یا کہ کھلی ہے کوئی جادوئی کتاب
چودہویں رات کا شفاف چمکتا ہوا چاند 
آسماں تا بہ زمیں نور کا بہتا دریا
جیسے چپکے سے ہر اک شئے پے کوئی اسم پڑھے
اور کچھ دیر میں ہو جائے سنہری دنیا
شمیم زہرا



  ثمر خانہ بدوش کا شمار ان شعرائے کرام میں ہوتا ہے کہ جو بیک وقت ہندی اردو عربی فارسی اور انگریزی پر دسترس رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ کوئی شخص اگر multiple languages کا علم رکھتا ہے تو اس کا دائرہ فکر بہت وسیع ہوگا۔یہی نہیں ، بلکہ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ ایک فطری شاعر یعنی ایک آمد کا شاعر اپنے مضامین اپنے تخیل اور اپنے طرز بیان میں بڑی حد تک آورد کے شاعر سے مختلف ہوتا ہے۔
ثمر صاحب کو میں لمبے عرصے سے ملٹی میڈیا کی وساطت سے جانتا ہوں اور آپ کے کلام
سے متعارف ہوں۔ ایک بار فیس بک پر ایک غزل پڑھی تھی جس کے چند شعر آج بھی یاد ہیں 
خانہ بدوش ہیں ضرور ایسا نہیں کہ گھر نہیں 
تھوڑے سے دربدر تو ہیں اتنے بھی در بدر نہیں 
اے خضر راہ ! یہ بتا کتنا چلے گا اور ابھی 
جسموں ہی کا سفر تو ہے روحوں کا یہ سفر نہیں
بہکے ضرور تھے کبھی ہم منزلوں کی چاہ میں 
لیکن حضور عشق اب کیا اپنی راہ پر نہیں 
اس غزل نے اور خصوصا اس مطلع نے مجھے اپنے سحر میں لے لیا تھا پھر میں لگاتار خانہ بدوش صاحب کے کلام کی جستجو میں لگا رہا،حت الوسع پڑھتا رہا، اور یہ پاتا رہا کہ اس شاعر کے یہاں کچھ بات تو بہت خاص ہے جو پڑھنے والے کے دل پر سیدھی اثر انداز ہوتی ہے۔
خانہ بدوش صاحب نے اپنے مجموعہ کلام میں کچھ غزلیں اس انداز کی رکھی ہیں کہ جن کو پڑھتے ہوئے ہندوستان کی پرانی تہذیب اور تمدن اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگانے لگتی ہے 
اندر جالی ،منتر پھوکا عقل کے ظلمت خانوں پر 
اور صوامت گھول کے مارے دل کے روشندانوں پر 
عشق کے ہم آسیب زدہ ہیں اور ایسے آسیب زدہ 
عامل، بابا چھوڑ نہ پائے کوئی اثر دیوانوں پر 
عشق میں ہم بس کانھا جی کو اپنا مرشد پاتے ہیں 
اپنا اک اک چند ہے بھاری قیس کے سب افسانوں پر 
خانہ بدوش صاحب کے ہاں دو چیزیں بڑی شدومد کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں ایک عشق اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ  اور معنوی سمتوں ساتھ جلوہ گر ہے دوسرے شاعر نے جن مضامین کو شعر کے پیکر میں ڈھالا ہے وہ گویا رقص کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
میری زندگی کا اکثر حصہ مختلف کوہستانی سلسلوں پر بسر ہوا ہے اور میں نے وہاں کی تہذیب،وہاں کا سکوت،وہاں کے  موسم، وہاں کی سادہ لوحی اور وہاں ٹھاٹے مارتے دریا اپنی روح میں جذب ہوتے دیکھے ہیں۔  اگر ان تمام مناظر سے عرق کشید کیا جائے اور اس سے خانہ بدوش صاحب کی شاعری کو علامتی طور پر دھو دیا جائے تو وہ مضامین پیدا ہوں گے جس کا ذکر میں نے سطور بالا میں کیا ہے۔
ثمر صاحب کے یہاں احساس ہے مگر اپنی حتمی آب و تاب کے ساتھ ، نغمگی ہے،الفاظ کی نشست و برخاست  اور تخیل کی ہمہ گیری نے ایک وجدان پیدا کر دیا ہے جو ہر پڑھنے والا یا ان کو سننے والا بہت آسانی سے محسوس کر سکتا ہے۔ یہ وجدان دیر پا اثر چھوڑنے والی کیفیت ہے کوئی مختصر واقعہ نہیں۔ 
خانہ بدوش صاحب کے کلام سے گزرتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ اپ ایسی پرکشش وادی سے ہو کے گزر رہے ہیں جہاں ہوائیں اور فضائیں رقصاں ہیں اور جہاں دریا گویا اپنی دھن میں بانسری بجاتا ہوا ساکت و جامد کھڑا ہے۔خانہ بدوش صاحب کے کلام سے گزرتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ  یہ اشعار بڑے حسین ہیں بڑے دلکش مضامین بنانے والے، کسی بڑے کینوس پر آفاقی تصویریں ابھارنے والے۔ یہ وہ روایتی غزلیں نہیں ہیں کہ جن سے اکثر مجموعہ ہائے کلام بھرے پڑے ہیں بلکہ ان غزلوں کو،ان شعروں کو ٹھہر ٹھہر کے،رک رک کے پڑھنا پڑتا ہے ہے۔ ان میں جہاں ایک طرف احساس کی شدت ہے ،تو وہیں تخیل کی ندرت ہے۔ساتھ ہی ساتھ ان اشعار کو کہنے کا جو ڈھنگ ہے یا جو ڈھب ہے وہ بھی بڑا نادر ہے ،بہت پر کیف ،بہت پراثر۔
یوں ہی ممکن نہیں اک جاپہ بسیرا میرا 
خانہ بردوش ہوں بستی نہ قبیلہ میرا 
شہر سے دور درندوں میں بسوں گا جا کر 
کوئی کھائے گا تو ہم جنس نہ ہوگا میرا 
اے میری خانہ بدوشی مجھے تنہا نہ یوں چھوڑ 
تیری سانسوں سے ہے آباد یہ صحرا میرا
مندر میں جب رات کو گھنٹی بجتی ہے 
بوڑھی اماں اٹھ کے تہجد پڑھتی ہے 
پن گھٹ پر اک رام دلاری عصر کے وقت 
سن کے اذانیں سر پہ مٹکا رکھتی ہے 
سر نگوں ہے شرم سے انسانیت 
کھا گیا انسان کو انسان دیکھ 
ملی اجداد سے میرے یہی میراث ہے مجھ کو 
میں ایک مزدور کا بیٹا ہوں محنت کر کے کھاتا ہوں 
میرے بچے مجھے جب شام کوآتا  ہوا دیکھی
خوشی سے مسکراتے ہیں میں غم میں ڈوب جاتا ہوں 
دیوانو! چلے آؤ کہ جو بن پہ ہے موسم 
بدمست عناصر کو تہ خاک کریں گے 
خاموش کیوں ہو میاں بولنا ضروری ہے 
برو تیغ فشاں بولنا ضروری ہے 
یہی ہے مقصد تشکیل منبر و محراب 
یہی ہے سر اذاں بولنا ضروری ہے 
ٹمر خانہ بدوش کے یہاں انسانی قدروں کی پامالی بے گھری کا درد، بے سد و سامانی کے اصل معنی، گنگا جمنی تہذیب کے احیائے نو کی فکر اور سماج کی بے راہ روی پر اظہار افسوس بھی بڑے سلیقے سے ملتا ہے۔سلیقے سے میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بعض جگہ یہی مضامین اپنی خام شکلوں میں کچھ اس طرح پڑھنے کو ملتے ہیں گویا کسی صحافی نے کسی اخبار کا اداریہ لکھا ہو۔مگر خانہ بدوش نے اس کو احساس و جذبات کی آنچ پر بلکہ دھیمی آنچ پر خوب پکا کر شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔
آپ کا کلام روایتی کلام سے بڑی حد تک ممتاز ہے، مگر انفرادیت کی فکر میں اپ نے کلاسیکی روایتوں کے بدن پر پاؤں نہیں رکھا ہے یعنی اس ان قدروں کو پامال نہیں کیا ہے۔ 
قصہ محرومی دل کیسے سناؤ گے مجھے 
جاؤ بس رہنے دو کیا اور رلاؤ گے مجھے 
چین سے اس دنیا میں تب ہی جی پاتے ہم خانہ بدوش
ارماں زیر پا ہونے تھے خواہش زیر سناں ہونی تھی 
خانہ بدوش کے ہاں جو کرب ہے وہ  دل کے بکھر جانے،انسان کی بے اعتنائی، بے جان رشتوں کو ڈھونے اور کسی غم شناس کی فہم کے خام ہونے کا بھی بہت ہے۔
ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اس مجموعے کی طباعت کو انجام دیا ہے۔424 صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ اہل سخن اور شائقان فن کے لیے سامان تازہ کاری فراہم کرے گا۔بہت دعاؤں کے ساتھ 
سہیل آزاد

 

کسی فن پارے پر لکھنا کتنا جاںفشانی کا کام ہے، اس کا کچھ کچھ اندازہ مجھے بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک تنقید نگار کا قلم تحریر کے لیے ہمہ وقت آزاد ہے ، وہ جو محسوس کرتا ہے ،سمجھتا ہے سوچتا ہے، اور اس کو ٹھیک لگتا ہے وہی لکھتا ہے۔ میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ دیانت داری کے ساتھ آپ جیسے  زی شعور، اور صاحب دانش اب کم ہی ہیں جو بے باکی کے ساتھ اپنا مطمع نگاہ بیان کرتے ہیں۔میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ایک کم علم شخص ہوں اور محض کچھ تک بندی کرنے کی حد تک شاعر ہوں مگر پھر بھی گزشتہ 50 برسوں سے اردو شاعری کی ہر نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہوں (خواہ وہ نگاہ خام ہی سہی ). دوسرا اعتراف یہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں وائس ٹائپنگ سے ٹائپ کرتا ہوں اردو کی - بورڈ پر ٹائپ کرنے کی مجھے مشق نہیں ہے۔

بہرحال بہت مبارک باد کہ آپ نے شارق کیفی کی جملہ شاعری کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ان کی غزلوں ، ان کی نظموں اور ان کے تخیل پر کھل کر بات کی۔

اپ نے جس نظم کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ یہ محض ہیت کے اعتبار سے نظم ہے تخیل اور فلسفے سے دور ۔ اس کے آخری مصرعے ایک بار پھر پڑھتے ہیں۔

اب مجھے اس زمین پر نہیں لوٹنا 

حاضری کے بغیر 

اس زمین سے میرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا کہ میں

 اک فرشتہ تھا 

اور اس جہاں میں غلط آگیا تھا

میری ناقص فہم کے مطابق ایسی نظمیں جن میں ظاہر ہے کہ ہیت تو ہو ہی،مگر جو کسی غیر معمولی تخیل کو لے کر ایک ایسے نفسیاتی موضوع پر لکھیی جائیں یا یوں کہیے کہ کہی جائیں کہ جن کی دسترس یعنی جن موضوعات کی دسترس عوام الناس کو کم ہی میسر ہوتی ہے یا پھر بہت غور کرنے پر وہ سمجھتا ہے،  ایک قسم کا فلسفہ رکھتی ہیں۔ زندگی اور موت کا فلسفہ، بیماری اور بیماری کے بعد شفایاب نہ ہونے کا کرب ۔

بس بہت جی لیے۔۔۔۔سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کس بلا کے کرب میں ڈوب کر کہی گئی نظم ہوگی اور ظاہر ہے شاعر کی نگاہ سماج کی اس باریک نبض پر ہوگی جس میں بحیثیت انسان اس کی پہچان بس ایک مریض کی حاضری بھر،کسی ہسپتال میں پکارے جانے بھر رہ گئی ہو۔میں عرض کر دوں یہ جیتا جاگتا مریض،  کبھی بے مرض جسم تھا تب اس کی کچھ اور پہچان تھی تب اس کا نام لینے والے اور نام سننے والے کچھ اور لوگ رہے ہوں گے جہاں اس کو اپنا نام اور اپنی پہچان بہت عزیز ہوگی مگر ایک لمبے عرصے تک بیماری سے لاغر ہو جانے کے بعد یہ جسم اب بس نجات چاہتا ہے نجات یعنی موکش۔  شارق کیفی کی اس نظم کی نفسیات اور فلسفہ حیران کر دینے والا ہے۔ 

میں عرض کر دوں کہ  شارق کیفی کے یہاں جو بھی مضامین اپنی نظموں میں برتے گئے ہیں وہ حیران کن حد تک انسانی زندگی کے بہت قریب ہیں،  انسانی نفسیات کے بہت قریب ہیں، انسانی دکھوں اور خوشیوں کے بہت قریب ہیں، آلام و آفات کے بہت قریب ہیں، مسائل کے بہت قریب ہیں،اکثر ان نظموں میں متکلم پس پردہ ہے وہ شاعر نہیں ہے بلکہ کسی اور کی زبان اور کسی اور کا احساس ہے۔ یہ حیران کن تجربے کہیں اور دیکھنے کو مشکل سے ہی ملیں گے۔ 

آپ نے فرمایا کہ یہ" گھسے پٹے" خیالات ہیں۔ قابل احترام پروفیسر صاحب! 

اس دنیا کے چپے چپے اور خطے خطے میں سوچنے والے ذہن آباد ہیں جن کے وہی مسائل ہیں جو دوسروں کے ہیں ان کے دکھ درد،ان کے فراق و وصال،ان کی شفایابی اور امراض،ان کی نفسیات،ان کے تجربات،ان کے تجزیات،ان کی اکتاہٹیں،ان کی مسکراہٹیں،ان کے نظریات گویا سب کچھ مشترک ہیں۔اب ان مشترک قدروں میں تقریبا ایک جیسی باتیں سوچی جاتی ہیں۔مضامین وہی رہتے ہیں بس ان کو پیش کرنا اپنے طور پر ان کا تجزیہ کرنا اپنے طریقے سے ان کو سمجھانا اپنے انداز میں ان کو نظم کے پیکر میں ڈھالنا یہ کمال ایک شاعر کا ہوتا ہے۔میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کروں کہ مضامین کی کاشت ممکن نہیں ہے ہاں ان کی دریافت مشکل ہے۔مضامین تو گھسے پٹے ہی رہیں گے مگر کون سے ایسے شعراء ہیں جن کے مضامین اپنی سالمیت کے اعتبار سے اول صف میں کھڑے نظر آئیں

شارق کیفی جب اپنا پہلا مجموعہ کرام   عام سا رد عمل ترتیب دے رہے تھے ، تو ادب کا ایک دور آخری سانسیں لے رہا تھا یعنی جدید طرز کی شاعری اختتام پذیر ہو رہی تھی یا ہو گئی تھی اور ما بعد جدید نظریات اور افکار جنم لے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ن م مراشد ، میرا جی یا اور دیگر اسی صف کے شعراء اپنے حصے کا کام کر چکے تھے اب باری تھی ما بعد  جدید شعرا کی کہ وہ مسائل کو اپنے طور پر سوچیں اور اپنے طور پر برتیں ، چنانچہ شارق کیفی نے ایسا ہی کیا۔ 

آپ کا یہ فرمانا کہ کوئی نظم بھاری بھرکم الفاظ سے بڑی نہیں ہوتی یعنی ڈاکٹر ،رجسٹر، بجلی کے جھٹکے وغیرہ ان الفاظ سے کوئی نظم بڑی ہو جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔مگر بہت ادب کے ساتھ میں عرض کر دوں کہ یہ نظم الفاظ سے بڑی نہیں ہوئی ہے نفسیات سے بڑی ہوئی ہے۔ الفاظ تو گویا دست بستہ کھڑے نظر اتے ہیں۔

آپ کا فرمانا سر آنکھوں پر، مگر میری التجا ہے کہ ان نظموں کو ایک بار اپ کی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ اپ نے قبرستان کے نل پر ،مشق، کینسر کے مریض کی بڑ بڑ ، ببلو کا بکرا اور محبت کی انتہا نظم ضرور پڑھی ہوں گی۔ یہ محض مثالیں ہیں کہ ایک شاعر جس کی انگلیاں ایک نباض کی طرح ہمیشہ انسانی نفسیات کی کلائی پر رہتی ہیں، جس کے پاس  بیانیہ بہت خاص ہے، مضامین دل میں اتر جانے والے ہیں، نظمیں  حیران کر دینے والی ہے۔ کیا آپ ما بعد جدید شاعری کے اس خالق کے اس وصف سے اتفاق نہیں کرتے !

میں عرض کر دوں " محبت کی انتہا " ایک عجیب و غریب انداز میں شروع ہوئی نظم ہے جس میں ایک کم سن بچہ اپنے چین اسموکر والد سے ، شدید محبت کرتا ہے مگر ان کی سگرٹ نوشی سے شدید نفرت کرتا ہے اور محبت اور نفرت کا یہ امتزاج اس نفسیاتی سطح تک آکر ایک ہیبت ناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہیبت ناکی جو ہمہ وقت شاعر کو اس کے والد کے فوت ہو جانے کے خطرے سے باخبر رکھتی ہے۔ یہ نظم شروع بھی بڑے حسین انداز میں ہوئی ہے 

پاپا تم مر جاؤ نہ پاپا 

میں تم سے نفرت کرتا ہوں 

کش تم لیتے ہو 

کھانسی مجھ کو آتی ہے۔۔‌

اس انداز میں نظمیں کہنے والا شاعر میری نظر میں شارق کیفی کے علاوہ دوسرا نہیں ہے۔

شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے : 

"میں نے یہ نظمیں بارہا پڑھی ہیں اور ہر بار حیرت زدہ ہوا ہوں یہ نظمیں  تقریبا سب کی سب واحد متکلم کی زبان سے ادا کی گئی ہیں۔ لیکن یہ واحد متکلم ایک شخص نہیں۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ کسی ایک شاعر کے تخیل یا اس کی شخصیت میں اتنے سارے متکلم اور اتنی طرح کے متکلم جمع ہو گئے ہوں۔ ڈرامے میں یہ یقینا ممکن ہے اگرچہ یہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔۔‌۔"

لہذا میں ایک ادنی، ناقص العقل، کم علم قاری ہونے کے باوجود آپ سے التماس کروں گا کہ ان نظموں کو ایک بار پھر پڑھیں ممکن ہے آپ کی آرا میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہو

گزشتہ شب بھی یہ کمنٹ میں پوسٹ کرنا چاہ رہا تھا،مگر کسی تکنیکی دقت کی وجہ سے آپ کی وال پر پوسٹ نہیں ہو سکا۔ چنانچہ اس کو اپنی وال پر پوسٹ کر کے اپ کو ٹیگ کر رہا ہوں شکریہ

سہیل آزاد



जो जले हैं उम्र भर यारों चराग़ों की तरह 
वो रहे सब की निगाहों में उजालों की तरह 
جو جلے ہیں عمر بھر یاروں چراغوں کی طرح
وہ رہے سب کی نگاہوں میں اجالوں کی طرح
वो जो पेश आते हैं हम से यार ख़ारों की तरह 
मात खाते हैं हमेशा होशियारों की तरह 
وہ جو پیش آتے ہیں ہم سے یار خاروں کی طرح 
 مات  کھاتے  ہیں  ہمیشہ  ہوشیاروں  طرح 
मीर-ओ- ग़ालिब की रवायत के रहे जो पासबां 
लोग भूले हैं उन्हें अदबी रिसालों की तरह 
میر و غالب کی روایت کے رہے جو پاسباں 
لوگ بھولے ہیں انہیں ادبی رسالوں کی طرح 
जो शगुफ़्ता दिल लिए जीते रहे हैं उम्र भर
वो ख़िज़ाओं में रहे हरदम बहारों की तरह
جو شگفتہ دل لئے جیتے رہے ہیں عمر بھر
وہ خزاں میں رہے ہر دم بہاروں کی طرح 
ख़ुदग़रज़ यारों के वादों पे लुटे हैं आप भी
थाम के दिल बैठ जाएं हम बेचारों की तरह 
خود غرض یاروں کے وعدوں پے لٹے ہیں آپ بھی
تھام کے دل بیٹھ جائیں ہم بے چاروں کی طرح 
रोकना है रोक लो रस्ता हमारा आप भी
अपनी फितरत है मियाँ नद्दी के धारों की तरह 
روکنا ہے روک لو رستا ہمارا  آپ بھی
اپنی فطرت ہے میاں ندّی کے دھاروں کی طرح 
यार अब तहज़ीब से अपना रहा न वास्ता 
हो गए वीरान हम उर्दू इदारों की तरह 
یار اب تہذیب سے اپنی رہا نہ واستا
ہو گیے ویران ہم اردو اداروں کی طرح 
शाम को डूबेगा सूरज आस्मां पे देखना
हम चमक उठेंगे रातों को सितारों की तरह 
شام کو ڈوبے گا سورج آسماں پے دیکھنا
ہم چمک اٹھیں گے راتوں کو ستاروں کی طرح 
जो गए हैं छोड कर इरशाद फिर से देखना
लौट के आएंगे वो इक रोज़ यारों की तरह 
इरशाद अज़ीज़
 جو گے ہیں چھوڑ کر ارشاد پھر سے دیکھنا
لوٹ کے آیئں گے وہ اک روز یادوں کی طرح 
ارشاد عزیز


यूँ ही न मुस्लिमीन का जज़्बा हुसैन हैं
इस्लाम के उरूज का चेहरा हुसैन हैं 
یوں ہی نہ مسلمین کا جذبہ حسین ہیں 
اسلام کے عروج کا چہرہ حسین ہیں 
इस्लाम का दरख़्त लगाया नबी ने पर
इस्लाम के दरख़्त का साया हुसैन हैं
اسلام کا درخت لگایا نبی نے پر
اسلام کے درخت کا سایا حسین ہیں
रोती है उनकी याद में इंसानियत तमाम
क़ल्बों में देखो आज भी ज़िंदा हुसैन हैं
روتی ہے ان کی یاد میں انسانیت تمام
قلبوں میں دیکھو اج بھی زندہ حسین ہیں 
कुल्फ़त में सब्र आता है ज़िक्र-ए-हुसैन से
दुखते हुए दिलों का सहारा हुसैन हैं
کلفت میں صبر آتا ہے ذکرِ حسین سے 
دختے ہوئے دلوں کا سہارا حسین ہیں
नामूस-ए-नूर-ए-ऐन-ए-अली में मैं क्या कहूँ
ईमाँ, सुकूँ, ग़ुरूर हमारा हुसैन हैं 
ناموسِ نورِ عَینِ علی میں میں کیا کہوں
ایماں سکوں غرور ہمارا حسین ہیں
यूँ तो बहुत हुए हैं वली,औलिया मगर
इस्लाम के फ़लक पे सितारा हुसैन हैं
یوں تو بہت ہوئے ہیں ولی اولِیا مگر
اسلام کے فلک پہ ستارہ حسین ہیں 
रौनक़ बिना हुसैन के होगी न ख़ुल्द में 
जन्नत की वादियों का नज़ारा हुसैन हैं
رونق بنا حسین کے ہوگی نہ خلد میں 
جنّت کی وادیوں کا نظارہ حسین ہے
तारीफ़ में हुसैन की 'यावर' मैं क्या कहूँ 
मंज़िल अगर ख़ुदा है तो रस्ता हुसैन हैं
 -यावर अली
تعارف میں حسین کی یاور میں کیا کہوں
منزل اگر خدا ہے تو رستہ حسین ہیں
یاور علی - 
  


ज़ाते-हक़ का है आईना मुरशिद।
मुर्तज़ा   मुस्तफ़ा  ख़ुदा  मुरशिद।
 ذاتِ حق کا ہے آئینہ مرشد۔
 مرتضیٰ مصطفیٰ خدا مرشد۔

दीनो-दुन्या की हर अता मुरशिद।
मज़हरे-हक़्क़ो  हक़नुमा मुरशिद।
دین و دنیا کی ہر عطا مرشد۔
مظہرِ حق و  حق نما  مرشد۔

मरकज़े-रुश्द   ओ   हिदायत   हैं,
रहबरो-हादी    रहनुमा   मुरशिद।
مرکزِ  رشد  و  ہدایت  ہئیں،
رہبر  و  ہادی  رہنما   مرشد۔

आप  को  पाया  साहिबे-मंज़िल,
ता ज दा रे-फ़ ना  बक़ा मुरशिद।
آپ  کو  پایا  صاحبِ منزل،
تاجدارِ    فنا    بقا    مرشد۔

जामो-मीना-है  और  मयकश है,
मयकदा मय है साक़िया मुरशिद।
جام و مینا ہےاورمئکش ہے،
میکدہ مئے ہے ساقیا مرشد۔

इस्म-आज़म  है  नाम,  चहरे  से,
दोनों आलम का मुद्दआ मुरशिद।
اسم اعظم ہےنام،چہرےسے،
دونوں عالم کا مدعا مرشد۔

बरहमन साक़िया इमाम हो तुम,
कितने पाकीज़ा पारसा मुरशिद।
برہمن  ساقیا  امام  ہو  تم،
کتنے  پاکیزہ  پارسا مرشد۔

हों फ़ना फ़िर्रुसुल फ़ना फ़िल्लाह,
काश! कर लें मुझे फ़ना मुरशिद।
ہوں فنا فی الرسل فنافی اللہ،
کاش!کر لیں مجھے فنا مرشد۔

हाथ  पकड़े  रहो   अक़ीदत   से,
ला  मकाँ  का  हैं रास्ता मुरशिद।
ہاتھ پکڑے رہو  عقیدت سے،
لامکاں کاہئیں راستہ مرشد۔

है  यदुल्लाह   फ़ौक़  ऐदीहिम,
दस्त  दस्ते-ख़ुदा  तिरा  मुरशिद।
ہے ید اللہ فوق ایدیہم،
دست دستِ خداترا مرشد۔

बुतशिकन, बुतपरस्,बुतों वाला,
एक सूरत का बुतकदा मुरशिद।
بتشکن بتپرس  بتوں  والا،
ایک صورت کابتکدہ مرشد۔

ताक  चहरा "बहार" सुब्हो-मसा,
ला पता  का  हसीं पता मुरशिद।
تاک چہرہ بہآرصبح ومسا،
لا پتہ کا حسیں پتہ مرشد
-डॉ. बहार चिश्ती नियामतपुरी 
23 अप्रैल 2018


 
” سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔
اللہ کے بندو! میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔
لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔
خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
لوگو! تمھارے خون تمھارے مال اور تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمھیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمھارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)
اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمھارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
لوگو! تمھاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کیے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔
اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔
لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمھارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمھارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔
تمھارے غلام تمھارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔
خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔
عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔
اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمھارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔
لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔
میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔


   
فردوس خان
  شوگر ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان کی زندگی بہت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔  وہ مٹھائیاں، پھل، آلو، کولکاشیا اور اپنی پسند کی بہت سی دوسری چیزیں نہیں کھا سکتا۔  اس کے ساتھ اسے مختلف قسم کی دوائیں بھی لینا پڑتی ہیں۔  کوئی بھی دوا نہیں کھانا چاہتا، جو مجبوری سے لینی پڑتی ہے، اس کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔  اس سے انسان مزید پریشان ہو جاتا ہے۔  پچھلے کئی دنوں سے ہم شوگر کے روحانی اور گھریلو علاج کے بارے میں مطالعہ کر رہے ہیں۔  ہم نے شوگر کے بہت سے مریضوں سے بات کی۔  ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا مہنگا علاج ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔  بہت سے ایسے لوگ بھی پائے گئے جنہوں نے گھریلو علاج کیا اور بہتر محسوس کر رہے ہیں۔  ذیابیطس کے مریض ڈاکٹروں سے دوائیں لیتے ہیں۔  لیکن ہم آپ کو ایسے علاج کے بارے میں بتائیں گے، جس کی وجہ سے مریض کو دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔
  جامن پہلا علاج ہے
  جی ہاں، جامن شوگر کا بہترین علاج ہے۔  عام طور پر تمام طریقوں کی شوگر کی دوائیں جامن سے تیار کی جاتی ہیں۔  بارش کے موسم میں بیریاں وافر مقدار میں آتی ہیں۔  اس موسم میں درخت بیریوں سے لدے ہوتے ہیں۔  جب تک موسم ہے شوگر کے مریض زیادہ سے زیادہ جامن کھائیں۔  اس کے علاوہ بیر کی گٹھلیوں کو دھو کر خشک رکھیں۔  کیونکہ جب جامن کا موسم نہ ہو تو ان گٹھلیوں کو پیس کر ایک چھوٹا چمچ اس کا پاؤڈر صبح خالی پیٹ کھائیں۔  جامن کے چار پانچ پتے صبح و شام کھانے سے بھی شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔  جامن کے پتے سال بھر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔  جن لوگوں کے گھروں کے قریب جامن کے درخت نہیں ہیں وہ جامن کے پتے منگوا لیں اور انہیں دھو کر خشک کر لیں۔  پھر ان کو پیس کر استعمال کریں۔  اس کے علاوہ بیر کی کچھ چھوٹی ٹہنیاں مٹی کے برتن میں ڈال دیں۔
  اور اس کا پانی پیو۔  اس سے بھی فائدہ ہوگا۔
 نیم کا دوسرا علاج ہے
  نیم کے سات سے آٹھ سبز نرم پتے صبح خالی پیٹ چبانے سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔  خیال رہے کہ نیم کے پتے کھانے کے بعد دس سے پندرہ منٹ بعد ناشتہ کریں۔  نیم کے پتے آسانی سے دستیاب ہیں۔
  امرود تیسرا علاج ہے
رات کو امرود کے دو تین پتوں کو دھو کر پیس لیں۔  پھر اسے شیشے یا سرامک کے برتن میں بھگو دیں۔  خیال رہے کہ بردھات کا نہ ہو۔  اسے صبح خالی پیٹ پینے سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔
  یہ تینوں علاج ایسے ہیں کہ آسانی سے دستیاب ہیں۔  شوگر کا کوئی بھی مریض ان کو اپنا کر آرام حاصل کر سکتا ہے۔  ان تینوں میں سے کوئی ایک علاج کرنے کے ایک ماہ بعد شوگر ٹیسٹ کروانے سے معلوم ہو جائے گا کہ اس کا کتنا فائدہ ہوا ہے۔

 

فردوس خان 
  گردے کی پتھری اب ایک عام بیماری بن چکی ہے۔  پتھری ناقابل برداشت درد کا باعث بنتی ہے۔  پیشاب میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔  اس کی وجہ سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
  ڈاکٹروں کے مطابق کیلشیم، آکسالیٹ، یورک ایسڈ اور سیسٹائن جیسے مادے پیشاب میں جمع ہو کر کرسٹل بنتے ہیں۔  پھر یہ کرسٹل گردے سے جڑ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔  ان میں 80 فیصد پتھر کیلشیم سے بنتے ہیں اور کچھ پتھر کیلشیم آکسالیٹ اور کچھ کیلشیم فاسفیٹ سے بنتے ہیں۔  باقی پتھری یورک ایسڈ، انفیکشن اور سیسٹائن سے بنتی ہے۔
  گردے کی پتھری کے بہت سے علاج ہیں۔  آج ہم کچھ ایسے ہی علاج کے بارے میں بتا رہے ہیں، جن سے لوگوں کو پتھری سے نجات مل گئی۔
  پتھری کا مریض کتنے دنوں میں اس سے نجات پاتا ہے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ گردے میں کتنی اور کس سائز کی پتھری ہے۔  اس کے ساتھ خوراک بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔  مثلاً پتھری کے مریض کو چاہیے کہ کیلشیم اور آئرن سے بنی چیزیں کم کریں۔  اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔
  زیتون، شہد اور لیموں
  ایک چمچ زیتون کا تیل، ایک چمچ شہد اور ایک لیموں کا رس ایک گلاس پانی میں ملا کر روزانہ پینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر آجاتی ہے۔
  کھیرا
  دیسی کھیرا پتھری کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔  دیسی کھیرے کو چھلکے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کھایا جائے۔  اس کی وجہ سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  مولی
  پتھری کے مریضوں کے لیے بھی مولی بہت فائدہ مند ہے۔  مولی کو سبزی یا سلاد کی شکل میں زیادہ سے زیادہ کھانا چاہیے۔  اس کی وجہ سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  سوڈا
  سوڈا پتھری کے مریضوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔  سوڈا مسلسل پینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ باہر آجاتی ہے۔
  اب بات کرتے ہیں ہومیوپیتھی دوا کی۔  Berberis Vulgaris Mother Tincture Q کے 5-5 قطرے دن میں تین بار لینے سے پتھری ٹوٹ جاتی ہے اور پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر آجاتی ہے۔
  مزید مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


 
فردوس خان
ہر تیسرا شخص کسی نہ کسی درد سے پریشان ہے۔ کسی کو پورے جسم میں درد ہوتا ہے، کسی کو کمر میں درد ہوتا ہے، کسی کو گھٹنوں میں درد ہوتا ہے اور کسی کو ہاتھ پاؤں میں درد ہوتا ہے۔ اگرچہ درد کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ یورک ایسڈ بھی ہے۔
درحقیقت یورک ایسڈ ایک فضلہ مادہ ہے، جو کھانے کے ہضم ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں پیورین ہوتا ہے۔ جب پیورین ٹوٹ جاتا ہے تو یہ یورک ایسڈ بناتا ہے۔ گردہ یورک ایسڈ کو فلٹر کرتا ہے اور اسے پیشاب کے ذریعے جسم سے نکال دیتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کھانے میں پیورک کی زیادہ مقدار استعمال کرتا ہے تو اس کا جسم اس رفتار سے یورک ایسڈ کو جسم سے خارج نہیں کر سکتا۔ جس کی وجہ سے جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ ایسی حالت میں یورک ایسڈ خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے اور یورک ایسڈ کے کرسٹل جوڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں جس سے جوڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑوں کا درد بھی ہوتا ہے۔ جسم میں ناقابل برداشت درد ہوتا ہے۔ یہ بھی گردے میں پتھری کا باعث بنتا ہے۔ جس کی وجہ سے پیشاب کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثانے میں ناقابل برداشت درد ہوتا ہے اور پیشاب میں جلن ہوتی ہے۔ پیشاب کثرت سے آتا ہے۔ یہ یورک ایسڈ صحت مند انسان کو بیمار کرتا ہے۔
یورک ایسڈ سے بچنے کے لیے اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دیں۔ دال پکاتے وقت اس سے جھاگ نکال لیں۔ نبض کم استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ دالیں بغیر کھالوں کے استعمال کرنا بہتر ہے۔ رات کو دال، چاول اور دہی وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ممکن ہو تو فائبر سے بھرپور غذائیں کھائیں۔
جو
یورک ایسڈ سے نجات کے لیے جو کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ جو کی خاصیت یہ ہے کہ یہ یورک ایسڈ کو جذب کرتا ہے اور اسے جسم سے باہر نکالنے میں موثر ہے۔ اس لیے جو کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں ضرور شامل کریں۔ گرمیوں کے موسم میں آپ جو کا ستّو پی سکتے ہیں، آپ جو کا دلیہ بنا سکتے ہیں، آپ جو کے آٹے کی روٹی بنا سکتے ہیں۔
جیرا
یورک ایسڈ کے مریضوں کے لیے بھی زیرہ بہت فائدہ مند ہے۔ زیرہ میں فولاد، کیلشیم، زنک اور فاسفورس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو یورک ایسڈ کی وجہ سے جوڑوں کے درد اور سوجن کو کم کرتے ہیں۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں بھی مددگار ہے۔
لیموں
لیموں میں موجود سائٹرک ایسڈ جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
مزید مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


 
فردوس خان-
  درد شقیقہ کا مطلب ہے آدھے سر کا درد۔  درد شقیقہ میں مبتلا شخص کو بار بار شدید سر درد ہوتا ہے۔  عام طور پر یہ درد سر کے نصف حصے میں ہوتا ہے اور وقفے وقفے سے پیدا ہوتا ہے۔  اگرچہ بہت سے لوگوں کو پورے سر میں درد بھی ہوتا ہے۔  درد شقیقہ کا مریض تیز روشنی اور تیز آواز کو برداشت نہیں کرسکتا۔  سر درد کی وجہ سے وہ چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
  درد شقیقہ کا علاج صرف ہمارے گھر میں موجود ہے۔  سونف اپنی ضرورت کے مطابق لیں۔  سونف کے آدھے دانے کو دیسی گھی میں ہلکا سنہری ہونے تک بھونیں۔  جب یہ ٹھنڈا ہو جائے تو کچی سونف میں بھنی ہوئی سونف ملا دیں۔  اسے ڈبے یا جار میں بھر کر رکھ لیں۔  اسے دن میں تین سے چار بار کھائیں۔  انشاء اللہ چند دنوں میں فرق محسوس ہو جائے گا۔
  ہم نے بہت سے درد شقیقہ کے مریضوں کو بچپن سے لے کر اب تک اس علاج سے ٹھیک ہوتے دیکھا ہے۔  ہماری پیاری والدہ مرحومہ ہما خوشنودی خان عرف چاندنی خان نے ہمیں یہ علاج بتایا۔
  مزید مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


  اپنے پیارے آقا حضرت محمًد
صلً اللہ علیہ وسلم کی شان میں 


... عقیدت کے پھول
میرے پیارے آقا
میرے خدا کے محبوب 
صلً اللہ علیہ وسلم
آپ کو لا کھوں سلام 
پیارے آقا 
ہر صبح 
چمبیل کے 
مہکتے سفید پھول 
چنتی ہوں 
اور سوچتی ہوں 
یہ پھول کس طرح آپ کی خدمت میں پیش کروں 
میرے آقا 
چاہتی ہوں 
آپ ان پھولوں کو قبول کریں 
کیونکہ 
یہ صرف چمبیل کے 
پھول نہیں ہیں 
یہ میری عقیدت کے پھول ہیں 
جو آپ کے لئے ہی کھلے ہیں 
فردوس خان-


 فردوس خان 
ملک میں غذائی تحفظ (فوڈ سیکورٹی) بل کو منظوری ملنے سے فاقہ کشی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کچھ حد تک کمی آئے گی، ایسی امید کی جا سکتی ہے۔حال ہی میں یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کی صدارت والی قومی صلاح کار کمیٹی( این اے سی) نے قومی غذائی تحفظ بل 2011 کو منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد فاقہ کشی کے شکار لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کرانا ہے۔اگر یہ بل پارلیمنٹ میں پاس ہو جاتا ہے تو ملک کے عوام کو رعایتی قیمتوں پر اشیاء خوردنی مل سکے گی۔بل کے مطابق،46فیصد گائوں میں رہنے والے اور 28 فیصد شہر میں رہنے والے خاندانوں کو ترجیحی گروپ میں شامل کیا جائے گا۔ ان خاندان کے فی ممبر سات کلواناج یعنی تین روپے کلو گیہوں، دو روپے کلو چاول اور ایک روپے کلو کی شرح سے موٹااناج لے سکیں گے۔ 49 فیصد دیہات کے لوگ اور 22 فیصد شہر میں رہنے والے خاندانوں کو عام درجے کے گروپ میں رکھا گیا ہے۔انہیں چار روپے کلو کی شرح سے اناج ملے گا۔

ملک کی 32 فیصد آ بادی غریبی سطح کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ، جو فصل کاٹے جانے کے بعد کھیت میں بچے ہوئے اناج اور بازار میں پڑی گلی سڑی سبزیاں سمیٹ کر کسی طرح اس سے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔بڑے شہروں میں بھی بھوک سے بے حال لوگوں کو کوڑے دانوں میں سے روٹی یا بریڈ کے ٹکڑوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ روزگار کی کمی اور غریبی کی مار کی وجہ سے کتنے ہی خاندان چاول کے کچھ دانوں کو پانی میں ابال کر پینے کو مجبور ہیں۔ ایک طرف گوداموں میں لاکھوں ٹن اناج سڑتا ہے تو دوسری طرف لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے ہیں۔ایسی حالت کے لیے کیا انتظامیہ سیدھے طور پر قصوروار نہیں ہے؟اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت بل کو منظور کرانے کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائے کہ اس منصوبے پر ایمانداری سے عمل ہو۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک غریبوں کی بھلائی کے لیے منصوبے تو کئی بنائے گئے ہیں لیکن لال فیتہ ہی کی وجہ سے وہ محض کاغذوں تک ہی سمٹ کر رہ گئے ۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے تو اسے قبول کرتےہوئے یہاں تک کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے چلا ایک روپیہ غریبوں تک پہنچتے پہنچتے پندرہ پیسے ہی رہ جاتا ہے۔

ملک میں ہر روزقریب سوا آٹھ کروڑ لوگ بھوکے سوتے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اناج کی بربادی پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اپناتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا تھا کہ گیہوں کو سڑانے سے اچھا ہے، اسے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کورٹ نے اس بات پر بھی حیرانی جتائی تھی کہ ایک طرف اتنی بڑی تعداد میں اناج سڑ رہا ہے، وہیں تقریبا 20 کروڑ لوگ قلت غذا کے شکار ہیں۔ گزشتہ سال 12 اگست کو سماعت کے دوران جسٹس دلویر بھنڈاری اور جسٹس دیپک ورما کی بنچ نے حکومت کو حکم جاری کیا تھا کہ ہر صوبے میں ایک بڑا گودام بنایا جائے اور ہر ایک ڈویژن ، ضلع میں بھی گودام بنائے جائیں، کورٹ نے یہ بھی کہا کہ خشک سالی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو مضبوط کیا جائے۔ساتھ ہی یہ یقینی بنایا جائے کہ مناسب قیمت کی دکانیں مہینے بھر کھلی رہیں۔ اس سے پہلے 27 جولائی کو سنوائی میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہوں، وہاں اناج کا ایک بھی دانا بیکار چھوڑنا گناہ ہے۔ مگر کورٹ کے حکم پر کتنا عمل ہوا، کسی سے چھپا نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ ماہ تک  پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت لوگوں کو اناج تقسیم کیا گیا، لیکن اس میں بھی دھاندلی کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔

پچھلے کافی عرصے سے ہر سال لاکھوں ٹن گیہوں برباد ہو رہا ہے۔ بہت سا گیہوں  کھلے آسمان کے نیچے بارش میں بھیک کر سڑ جاتا ہے۔ وہیں گوداموں میں رکھے اناج کا بھی 15 فیصد حصہ ہر سال خراب ہوجاتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، انڈین فوڈ کارپوریشن (ایف سی آئی) کو گوداموں میں سال 1997 سے 2007 کے دوران 1.83 لاکھ ٹن گیہوں، 6.33 لاکھ ٹن چاول ، 2.20 لاکھ ٹن دھان اور 111 ٹن مکا سڑ چکا ہے۔ اتنا ہی نہیں ، کولڈ اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے ہر سال تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کی سبزیاں اور پھل بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق، پچھلے چھ برسوں میں پورے ملک کے گوداموں میں 10 لاکھ 37 ہزار 738 ٹن اناج سڑ چکا ہے۔ ساتھ ہی ان گوداموں کی صفائی پر تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ایف سی آئی کے مطابق، پچھلے سال جنوری تک 10,688 لاکھ ٹن اناج خراب ہو چکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال دو لاکھ ٹن اناج خراب ہو جاتا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق، پچھلے سال سرکاری ایجنسیوں نے چھ کروڑ ٹن اناج خریدا، جبکہ گودام میں 447.09  لاکھ ٹن اناج رکھنے کی صلاحیت ہے۔ ایسے میں باقی بچے اناج کو کھلے آسمان کے نیچے رکھا گیا ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 28   ہزار کروڑ روپے کا اناج کھلے میں پڑا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک تو پہلے ہی گوداموں کی کمی ہے، اس کے باوجود سرکاری گوداموں کو پرائیویٹ کمپنیوں کو کرائے پر دے دیا جاتا ہے اور اناج کھلے میں سڑتا رہتا ہے۔ جن گوداموں میں اناج رکھنے کی جگہ بچی ہوئی ہے،لا پرواہی کی وجہ سے وہاں بھی اناج نہیں رکھا جاتا ہے۔ کھلے میں پڑے اناج کو ترپال یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھک دیا جاتا ہے، لیکن بارش اور پانی بھر جانے کی وجہ سے اناج محفوظ نہیں رہ پاتا۔ پانی میں بھیگے اناج میں کونپل پھوٹنے لگتی ہے اور کچھ دنوں بعد سڑ جاتا ہے۔گوداموں میں رکھے اناج کو کیڑوں اور چوہوں سے بچانے کے بھی انتظام نہیں کیے جاتے، جس سے اناج میں کیڑے لگ جاتے ہیں اور اناج کو چوہے کھا جاتے ہیں۔ افسران کے ذریعہ چوری چھپے سرکاری اناج بیچنے کے الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ گوداموں سے کم ہوا اناج چوہوں کے حصے میں لکھ دیا جاتا ہے۔

حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک طرف  ملک کے پاس اناج کا اتنا ذخیرہ  ہے کہ اسے رکھنے تک کی جگہ نہیں ہے، دوسری طرف ملک کی ایک بڑی آبادی کو پیٹ بھر  کھانا نصیب نہیں ہو پاتا ہے۔ یہ آبادی فاقہ کشی کی لپیٹ میں ہے ۔ گلوبل ہنگر   انڈیکس میں انٹرنیشنل فوڈ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے 88 ملکوں کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کو 66 ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔ہندوستان کے اندر پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کی خوراک میں کمی آئی ہے۔دیہاتی علاقوں میں ہر آدمی کی اوسطاً خوراک  1972-1973 میں 2266 کیلوری یومیہ تھی، جو اب کم ہو کر 2149 رہ گئی ہے۔ ملک میں آبادی 1.9 فیصد کے اوسط سے بڑھی ہے، وہیں غذائی پیداوار 1.7 فیصد کے اوسط سے کم ہوا ہے۔

قومی خاندانی صحت سروے کی رپورٹ کے مطابق ، ملک میں 46 فیصد بچے انیمیا کا شکار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میںتین سال سے کم عمر کے قریب 47فیصد بچے کم وزن کے شکار ہیں۔اس کی وجہ سے ان کی جسمانی نشو و نما بھی رک گئی ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں 33.1 فیصد بچے انیمیا کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش میں 60.3 فیصد، جھارکھنڈ میں 59.2 فیصد ، بہار میں 58 فیصد، چھتیس گڑھ میں 52.2 فیصد، اڑیسہ میں 44 فیصد، راجستھان میں 44 فیصد، ہریانہ میں 41.9 فیصد، مہاراشٹر میں 39.7 فیصد ،اتراکھنڈ میں 38 فیصدی، جموں و کشمیر میں 29.4 فیصد اور پنجاب میں 27 فیصد بچے  انیمیا کی زد میں ہیں۔یونیسیف کے ذریعہ جاری ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا کے کل انیمیا زدہ بچوں میں سے ایک تہائی آبادی ہندوستانی بچوں کی ہے۔ہندوستان میں پانچ کروڑ 70 لاکھ بچے انیمیا کے شکار ہیں۔ پوری دنیا میں کل 14 کروڑ 60 لاکھ بچے انیمیا کی زد میں ہیں۔ اس اضافے کی موجودہ رفتار ایسی ہی رہی تو 2015 تک انیمیا کا اوسط آدھا کر دینے کا ہدف 2025 تک بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ رپورٹ میں ہندوستان میں انیمیا کے اوسط کا مقابلہ دیگر ملکوں سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں انیمیا کا اوسط ایتھوپیا ، نیپال اور بنگلہ دیش کے برابر ہے۔ ایتھوپیا میں انیمیا کااوسط 47 فیصد اور نیپال اور بنگلہ دیش میں 48-48 فیصد ہے، جو چین کے آٹھ فیصد، تھائی لینڈ کے 18 فیصد اور افغانستان کے 39  فیصد کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔

مرکزی حکومت نے غذائی پیداوار میں آئے ٹھہرائو اور بڑھتی آبادی کی غذائی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اگست 2007  میں مرکز ی اسپانسرڈ غذائی  تحفظ مشن اسکیم شروع کی تھی،اس کا مقصد گیہوں، چاول اور دال کی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ ملک میں غذائی تحفظ کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔ قومی غذائی تحفظ مشن کے تحت چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے 14 ریاستوں کے 136 ضلعوں کومنتخب کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اڑیسہ ، تمل ناڈو، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ گیہوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 9 ریاستوں کے 141 ضلعوں کو منتخب کیا گیا۔ ان ریاستوں میں پنجاب ، ہریانہ، اتر پردیش ، بہار،  راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اسی طرح دال کی پیداوار بڑھانے کے لیے14 ریاستوں ، کے 171 ضلعوں کو منتخب کیا گیا۔ ان ریاستوں میں آندھرا پریش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر، اڑیسہ راجستھان، تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ان ضلعوں کے 20 ملین ہیکٹیئر دھان کے علاقے، 13 ملین  ہیکٹیئر گیہوں کے علاقے اور 4.5 ملین ہیکٹیئر دال کے علاقے شامل کیے گئے ہیں۔ جو دھان اور گیہوں کے کل بوائی علاقے کا 50 فیصد ہے۔ دال کے لیے مزید 20 فیصدی علاقے تیار کیے جائیں گے۔در اصل بڑھتی مہنگائی نے کم آمدنی والے طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا بھی مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے میں صرف ٖغذائی تحفظ بل بنانے سے کچھ خاص ہونے والا نہیں  ہے۔ حکومت کو ہر اعتبار سے عوام کی بنیادی سہولتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔


فردوس خان 
آزادی کی 6دہائی گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک میں بندھوا مزدوری مسلسل جاری ہے۔حالانکہ حکومت نے 1975میں ایک آرڈینینس کے ذریعہ بندھوا مزدوری پر پابندی عائد کر دی تھی، مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ حکومت بھی اس  بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں بندھوا مزدوری ابھی بھی جاری ہے۔دور جانے کی ضرورت  نہیں ، ملک کی راجدھانی دہلی کو ہی لے لیجئے، پولس نے گزشتہ دنوں راجدھانی کے نبی کریم علاقہ میں ایک بیگ بنانے والے کارخانہ میں کام کرنے والے 22بچوں کو آزاد کرایا۔ان  بچوں کی عمر محض7سے 12سال کے درمیان ہے۔شکایت ملنے پر سینٹرل ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس، این سی او سلام بالک ٹرسٹ اور ہیومن رائٹس لاء نیٹورک، دہلی پولس اور لیبر ڈپارٹمنٹ کے افسران اور نمائندوں نے کارخانہ پر چھاپہ مارا تھا۔ان بچوں میں بیشتر بچے بہار کے سیتا مڑھی، دربھنگا اور نیپال کے بتائے گئے۔ افسران کے مطابق، ان بچوں سے روزانہ 12سے 14گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔

صوبائی وزیر برائے محنت اور روزگار ہریش راوت کے مطابق،  31مارچ تک دو لاکھ 88ہزار 462بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے اور ان کی بازآبادکاری کے لئے 7015.46لاکھ روپے مہیا کرائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر ضلع میں سروے کرانے کے لئے مختلف ریاستی حکومتوں کو 676لاکھ روپے دئے جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایات کے مطابق بندھوا مزدورسسٹم استیصال قانون 1976کے تحت عمل درآمد کی نگرانی کے لئے لیبر اینڈ امپلائمنٹ سکریٹری کی صدارت میں ایک خصوصی گروپ بھی تشکیل کیا گیا ہے، جس کی اب تک علاقہ در علاقہ 18میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ حکومت نے 1980میں اعلان کیا تھا کہ اب تک ایک لاکھ 20ہزار 500بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔ لیبراینڈ امپلائمنٹ منسٹری کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں19ریاستوں سے 31مارچ تک دو لاکھ 86ہزار 612بدھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں آزاد کرایا گیا۔ نومبر تک صرف ایک ہی ریاست اتر پردیش میں سے 28ہزار 385میں سے صرف 58بندھوا مزدوروں کو بازآباد کیا گیا، جبکہ بقیہ 18ریاستوں  میں ایک بھی بندھوا مزدوروں کی نو آبادکاری نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، ملک میں سب سے زیادہ تمل ناڈو میں65ہزار 573بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کر کے انہیں آزاد کرایا گیا۔ کرناٹک میں 63ہزار 437اور اڑیسہ میں 50ہزار 29بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 19ریاستوں کو 68کروڑ 68لاکھ 42ہزار روپے کی مرکزی امداد مہیا کرائی گئی، جس میں سب سے زیادہ رقم 16کروڑ 61لاکھ 66ہزار 94روپے راجستھان کو دئے گئے۔ 15کروڑ 78لاکھ 18ہزار روپے کرناٹک اور 9کروڑ 3 لاکھ 34ہزار روپے اڑیسہ کو مہیا کرائے گئے۔ اسی میعادکے دوران سب سے کم مرکزی امداد اتراکھنڈ کو مہیا کرائی گئی۔ اتر پردیش کو 5 لاکھ 80ہزار روپے کی مرکزی امداد فراہم کرائی گئی۔ علاوہ ازیں ارونا چل پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی، گجرات اور اتراکھنڈ کو 31مارچ 2006تک بندھوا بچوں کا سروے کرانے اور بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے پروگرام کرنے کے لئے 4کروڑ 20لاکھ روپے دئے گئے۔لیبر منسٹری کے ڈائریکٹر جنرل انل سوروپ کے مطابق بندھوا مزدوروں کی بازآبادکاری کے لئے، انہیں آزاد کرنے کے بعدفوری طور پرہر مزدورکو ایک ہزار روپے کی فوری امداد،19ہزار روپے کی بازآبادکاری امداد، رہائش، زراعتی زمین اور روزگار کے وسائل مہیا کرانے کی تجویز ہے۔راجستھان کے چیف سکریٹری برائے لیبر اینڈ پلاننگ منوہر کانت کے مطابق، ریاست میں1976سے اب تک 11ہزار 319بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 9ہزار 112مزدوروں کی بازآبادکاری کی گئی، جبکہ 1467کو دیگر دوسری ریاست میں بازآبادکاری کے لئے بھجوایا گیا۔ ریاست میں بندھوا مزدور رکھنے والوں کے خلاف 370چالان پیش گئے گئے، جن میں137معاملے خارج، 75میں جرمانہ،56معاملوں میں سزا دی گئی اور 102معاملوں میں ملزمین کو بری کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ راجستھان میں عمارت اور دیگر تعمیری ورکرس ویلفیئر ایکٹ کے تحت 50لاکھ آلات کی شکل میں وصول کئے گئے اور 7ہزار 497مزدوروں کا رجسٹریشن کیا گیا۔

جے پور کے سانگانیر میں مزدوری کا کام کر رہے ستیہ پرکاش نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ الور کے ساگر اینٹ بھٹے پر کام کرتا تھا، جہاں اسے کنبہ سمیت بندھوا مزدور کے طور پر رکھا گیا تھا۔ ٹھیکیدارانہیں نہ تو پوری مزدوری دیتے تھے اور نہ اسے جانے دیتے تھے۔ یہاں مزدوروں سے 15سے 16گھنٹے کام کرایا جاتا ہے۔ ان مزدوروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔گزشتہ مئی ماہ میں بندھوا مکتی مورچہ کی شکایت پر ایس ڈی ایم، نائب تحصیلدار اور لیبر انسپکٹر نے ریونیو اسٹاف کے ساتھ بھٹے پر چھاپہ مار کر مزدوروں کو آزاد کرایا۔ستیہ پرکاش کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مزدوروں کو بھی آزاد کرایا گیا۔انتظامیہ نے انہیں بقایہ ادائیگی کے علاوہ کرایا بھی دلوایا۔ ملک میں ایسے ہی کتنے بھٹے اور دیگر کاروباری دھندے ہیں، جہاں مزدوروں کو بندھوا بنا کر ان سے سخت محنت کرائی جاتی ہے اور مزدوری کے عوض میںبرائے نام پیسے دئے جاتے ہیں، جن سے انہیں دو وقت کی بھرپیٹ روٹی تک نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے،لیکن جب بندھوا مکتی مورچہ جیسی تنظیموں کے ذریعہ انتظامیہ پر دبائو بنایا جاتا ہے تو افسران نیند سے بیدار ہوتے ہیںاور کچھ جگہوں پر چھاپہ ماری کی رسم ادا کر لیتے ہیں۔ مزدور سریندر کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو ٹھیکیداروں کی من مانی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ انہیں ہر روز کام نہیں مل پاتا، اس لئے وہ کام کی تلاش میں اینٹ بھٹوں کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں بھی انہیں غیر انسانی صورتحال میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مزدور بیمار ہو جائے تو اسے دوا ملنا تو دور ، آرام تک کرنے نہیں دیا جاتا ۔

دراصل، انگریزی دور حکومت میں نافذ کئے گئے زمینی بندوبست نے ہندوستان میں بندھوا مزدوری کی بنیادڈالی تھی۔اس سے پہلے تک زمین کو جوتنے والا زمین کا مالک ہوتا تھا۔ زمین کی ملکیت پر راجائوں اور جاگیرداروں کا کوئی دعویٰ نہیں تھا۔ انہیں وہی ملتا تھا، جو ان کا واجب حق ہوتا تھا اور یہ کلپیدوار کا ایک فیصد حصہ ہوتا تھا۔ کسان ہی زمین کے مالک ہوتے تھے۔ حالانکہ زمین کا اصلی مالک راجا تھا۔ پھربھی ایک بار جوتنے کے بعد ملکیت کسان کے ہاتھ میں چلی گئی۔ راجا کی بادشاہت اور کسان کی ملکیت کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی تنازعہ نہیںہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی گئی، لیکن کسانوں کی زمین کی ملکیت پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا، راجا اور کسانوں کے درمیان کوئیثالث بھی نہیں تھا۔ زمینی نظم ٹھیک سے چلانے کے لئے راجا گائووں میں مکھیا مقرر کرتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی گئی اور زمین کے مالک کا درجہ رکھنے والا کسان محض زراعتی مزدور بن کر رہ گیا۔

کہنے کو تو لیبر سسٹم ایکٹ 1976کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی بندھوا مزدوری پر پابندی عائد ہو چکی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیبر قانونوں کی لچک کے سبب مزدوروں کے استحصال کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی ہمارے ملک میں مزدوروں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے۔ خواندگی اور بیداری نہ ہونے کے سبب اس طبقہ کی جانب کسی کا دھیان نہیں گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے، تاکہ مزدوروں کو استحصال سے نجات مل سکے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مزدور بھی اس ملک کی آبادی کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ملک کی ترقی کی علامت بنیں فلک بوس عمارتوں میں ان کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔


أنا أحب محم صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

أنا أحب محم صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
I Love Muhammad Sallallahu Alaihi Wasallam

फ़िरदौस ख़ान का फ़हम अल क़ुरआन पढ़ने के लिए तस्वीर पर क्लिक करें

या हुसैन

या हुसैन

फ़िरदौस ख़ान की क़लम से

Star Web Media

सत्तार अहमद ख़ान

सत्तार अहमद ख़ान
संस्थापक- स्टार न्यूज़ एजेंसी

ई-अख़बार पढ़ें

ब्लॉग

एक झलक

Followers

Search

Subscribe via email

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

साभार

इसमें शामिल ज़्यादातर तस्वीरें गूगल से साभार ली गई हैं