کربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر سورج آگ کے گولے کی طرح جھلسا رہا تھا۔ محرم سن 61 ہجری کے وہ دن تھے جب عراق کے میدانوں میں گرمی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی۔ دریائے فرات کے کنارے ہوا کے جھونکے تو چلتے تھے، مگر میدانِ کربلا کے خیموں تک پہنچتے پہنچتے وہ بھی جیسے آگ کا روپ دھار لیتے تھے۔ دور افق پر ریت کے ذرے سورج کی شعاعوں سے چمکتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین اور آسمان کے درمیان ایک دہکتا ہوا پردہ تن گیا ہو۔
کربلا، جو اس زمانے میں کوفہ سے شمال مغرب کی سمت واقع ایک نسبتاً غیر آباد میدان تھا، فرات کے کنارے پھیلے ہوئے کھجوروں کے جھنڈوں، چھوٹی آبادیوں اور چراگاہوں کے درمیان واقع تھا۔ اس کے مشرق میں صحرا پھیلا ہوا تھا جبکہ مغرب میں فرات کی نیلگوں موجیں زندگی کا پیغام دیتی تھیں۔ یہی دریا صدیوں سے عراق کی تہذیبوں کا محافظ تھا۔ اس کے کنارے بستیاں آباد تھیں، قافلے گزرتے تھے، کھجوروں کے باغ لہلہاتے تھے اور کسان اپنی زمینوں کو سیراب کرتے تھے۔ مگر محرم کے ان دنوں میں یہی دریا ایک ایسے المیے کا خاموش گواہ بننے والا تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکی۔
امام حسینؑ کے خیموں میں بچے پیاس سے نڈھال تھے۔ عورتوں کے چہروں پر صبر کی چادر تھی لیکن آنکھوں میں فکر کی نمی نمایاں تھی۔ پانی کے مشکیزے خالی ہو چکے تھے۔ چند دن پہلے تک فرات کا پانی دستیاب تھا، مگر سات محرم کو ابن زیاد کے حکم پر عمر بن سعد کے لشکر نے دریا تک رسائی بند کر دی۔ چار ہزار کے قریب سپاہیوں کو فرات کے کنارے تعینات کر دیا گیا تاکہ امام حسینؑ کے ساتھی پانی حاصل نہ کر سکیں۔
اس ماحول میں ایک شخصیت ایسی تھی جسے دیکھ کر اہلِ حرم کے دل مضبوط ہو جاتے تھے۔ یہ حضرت عباس بن علیؑ تھے۔ آپؑ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے سوتیلے بھائی تھے۔ آپؑ کی والدہ حضرت ام البنینؑ تھیں، جو عرب کے ایک بہادر اور معزز قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت عباسؑ بچپن ہی سے شجاعت، وفاداری اور ایثار کے اوصاف میں ممتاز تھے۔ آپؑ کا قد بلند، جسم مضبوط اور شخصیت رعب دار تھی۔ عرب کے جنگجو آپؑ کو "قمر بنی ہاشم" یعنی بنی ہاشم کا چاند کہا کرتے تھے۔
کربلا میں حضرت عباسؑ کے ہاتھ میں جو علم تھا، وہ محض ایک جھنڈا نہیں تھا۔ عرب معاشرے میں علم لشکر کی عزت، استقامت اور وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے دوران اگر علم گر جاتا تو اسے شکست کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ اسی لیے علم ہمیشہ سب سے زیادہ بہادر اور قابلِ اعتماد شخص کے سپرد کیا جاتا تھا۔ امام حسینؑ نے یہ عظیم ذمہ داری حضرت عباسؑ کو سونپی۔ اس انتخاب میں صرف خاندانی تعلق نہیں بلکہ بے مثال وفاداری اور شجاعت بھی شامل تھی۔
محرم کے ابتدائی دنوں میں جب یزیدی لشکر چاروں طرف سے جمع ہو رہا تھا، حضرت عباسؑ علم اٹھائے امام حسینؑ کے خیموں کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ جب رات کی تاریکی میدان پر اترتی اور دشمن کے خیموں میں مشعلیں جل اٹھتیں تو حضرت عباسؑ پہرے پر موجود ہوتے۔ آپؑ کی موجودگی اہلِ بیتؑ کے لیے تحفظ اور اطمینان کا ذریعہ تھی۔
وقت گزرتا گیا اور پیاس کی شدت بڑھتی گئی۔ خیموں میں بچوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ "العطش، العطش" کی صدائیں فضا میں گونجتی تھیں۔ چھوٹے بچے خشک ہونٹوں کے ساتھ پانی مانگتے تھے۔ یہ منظر کسی بھی حساس دل کو پگھلا دینے کے لیے کافی تھا۔
حضرت عباسؑ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امام حسینؑ کے ساتھی بھوک اور پیاس برداشت کر سکتے ہیں، مگر معصوم بچوں کی تکلیف دیکھنا آسان نہیں۔ ایک وقت آیا جب آپؑ نے امام حسینؑ سے اجازت طلب کی کہ فرات سے پانی لانے کی کوشش کریں۔ روایات کے مطابق امام حسینؑ نے اجازت عطا فرمائی۔
میدانِ کربلا کا منظر اس وقت نہایت عجیب تھا۔ ایک طرف ہزاروں مسلح سپاہی تھے اور دوسری طرف چند درجن وفادار جانثار۔ حضرت عباسؑ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ ہاتھ میں علم تھا اور دل میں اہلِ بیتؑ کی پیاس بجھانے کا عزم۔ آپؑ کا رخ فرات کی جانب تھا۔
فرات تک جانے والا راستہ دشمن کے سپاہیوں سے بھرا ہوا تھا۔ گرد و غبار اڑ رہا تھا، تلواریں چمک رہی تھیں اور نیزوں کے سائے زمین پر پھیل رہے تھے۔ مگر حضرت عباسؑ کی ہیبت ایسی تھی کہ بہت سے سپاہیوں کے دل لرز اٹھے۔ آپؑ نے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے پیش قدمی کی۔ عرب کے جنگی آداب میں انفرادی شجاعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور حضرت عباسؑ کی بہادری پہلے ہی مشہور تھی۔
بالآخر آپؑ فرات کے کنارے پہنچ گئے۔
وہی فرات جس کی موجیں سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ ٹھنڈا پانی کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔ کئی دنوں کی پیاس کے بعد پانی آپؑ کے سامنے تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے پانی ہاتھ میں لیا۔ شدتِ پیاس اپنی جگہ موجود تھی۔ جسم گرمی سے جھلس رہا تھا۔ ہونٹ خشک تھے۔ مگر اسی لمحے آپؑ کو امام حسینؑ اور خیموں میں موجود بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔
یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین ایثار کے مناظر میں سے ایک ہے۔
آپؑ نے پانی کو دیکھا، مگر خود نہ پیا۔ گویا دل نے کہا کہ جب مولا حسینؑ اور اہلِ حرم پیاسے ہیں تو عباسؑ کیسے سیراب ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپؑ نے پانی واپس دریا میں بہا دیا اور مشکیزہ بھر لیا۔
یہ محض پانی نہ تھا بلکہ امید تھی۔ خیموں میں موجود بچوں کے لیے زندگی کی ایک کرن تھی۔ حضرت عباسؑ مشکیزہ بھر کر واپس روانہ ہوئے۔ اب دشمن کو احساس ہو چکا تھا کہ اگر یہ پانی خیموں تک پہنچ گیا تو ان کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔
چنانچہ چاروں طرف سے حملے شروع ہو گئے۔
تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے آپؑ کے دائیں بازو پر وار کیا گیا۔ شدید زخم لگا اور بازو جدا ہو گیا۔ مگر حضرت عباسؑ نے علم اور مشکیزے کو سنبھالے رکھا۔ آپؑ کی توجہ اپنی ذات پر نہیں بلکہ پانی کو خیموں تک پہنچانے پر تھی۔
پھر دوسرا حملہ ہوا اور بایاں بازو بھی جدا کر دیا گیا۔ عام انسان کے لیے اس مقام پر لڑائی جاری رکھنا ناممکن ہوتا، مگر حضرت عباسؑ کی استقامت غیر معمولی تھی۔ آپؑ نے مشکیزے کو اپنے جسم کے ساتھ محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور آگے بڑھتے رہے۔
گرد و غبار سے فضا بھر گئی تھی۔ دشمن ہر سمت سے حملہ آور تھا۔ تیر برس رہے تھے۔ اسی دوران ایک تیر مشکیزے پر لگا اور پانی بہنے لگا۔ وہ پانی جسے اہلِ حرم تک پہنچنا تھا، ریت پر بکھرنے لگا۔
یہ منظر حضرت عباسؑ کے لیے شاید جسمانی زخموں سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔
پھر ایک اور ضرب سر پر لگی۔ آپؑ گھوڑے سے زمین پر آ گئے۔ میدانِ کربلا کی ریت آپؑ کے خون سے رنگین ہو گئی۔ علم گر چکا تھا، مگر وفاداری کا پرچم ہمیشہ کے لیے بلند ہو گیا تھا۔
روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے امام حسینؑ کو آواز دی۔ امام حسینؑ اپنے بھائی کی طرف آئے۔ یہ لمحہ تاریخ کے سب سے دردناک مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ دو بھائی، جنہوں نے بچپن مدینہ کی گلیوں میں گزارا تھا، آج کربلا کی ریت پر آخری بار ایک دوسرے کے قریب تھے۔
حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ نے ایک ایسا جملہ فرمایا جو تاریخ میں محفوظ ہو گیا: "اب میری کمر ٹوٹ گئی۔"
یہ الفاظ صرف بھائی کی جدائی کا اظہار نہیں تھے بلکہ اس عظیم ستون کے گر جانے کا اعلان تھے جو پورے قافلے کے حوصلے کا مرکز تھا۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت کو صرف ایک جنگجو کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ آپؑ وفاداری، ایثار، اطاعت اور خدمت کی ایسی مثال ہیں جو انسانی تاریخ میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپؑ نے اپنی جان کسی ذاتی مقصد کے لیے نہیں دی بلکہ اپنے امام، اپنے دین اور حق کے لیے قربان کی۔
فرات کا واقعہ دراصل پانی کی جنگ نہیں تھا۔ یہ وفاداری اور خود غرضی کے درمیان معرکہ تھا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں ہو کر پانی پر پہرہ دیا، اور دوسری طرف ایک ایسا انسان تھا جس نے شدید پیاس کے باوجود پانی کو اپنے ہونٹوں تک نہ آنے دیا۔
کربلا کے بعد صدیوں گزر چکی ہیں۔ فرات آج بھی بہتا ہے۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد ہیں، کھجوروں کے باغ لہلہاتے ہیں اور قافلوں کی جگہ جدید سڑکیں آ چکی ہیں۔ مگر جب بھی محرم آتا ہے، تاریخ کا وہ منظر پھر زندہ ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ایک بلند قامت علمبردار آ جاتا ہے جو فرات کے کنارے کھڑا ہے، ہاتھ میں پانی ہے، مگر دل میں حسینؑ کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اپنی پیاس بھول جاتا ہے۔
حضرت عباسؑ کا علم آج بھی صرف ایک جھنڈا نہیں بلکہ وفا کی علامت ہے۔ یہ اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ حق کے راستے میں قربانی دی جا سکتی ہے، مگر اصولوں کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا کی ریت پر گرنے والا وہ علم بظاہر زمین پر آ گیا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ہمیشہ کے لیے انسانیت کے آسمان پر بلند ہو گیا۔ اور فرات کی موجیں آج بھی گویا یہی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا میں بہت سے بہادر گزرے، بہت سے سپہ سالار آئے، مگر وفاداری کا جو باب حضرت عباسؑ نے اپنے خون سے لکھا، اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں بہت کم ملتی ہے۔
Courtsy تنہائی اور میں
ये सर्द रिश्तों का ऐसा मौसम है
सब हैं तन्हा !
ये टेलीवीज़न, ये कम्पयूटर, ये नेट, गूगल,
ये वाट्सेप है, ये फ़ेसबुक है
ये सारे असबाब साथ लेकर
सब अपनी मसरूफ़ ज़िन्दगी की
रज़ाइयों में घुसे हुए हैं
ज़मीन से आसमान तक अब
फ़क़त तरंगें भरी हुई हैं
घना है कोहरा !
ये ऐसा कोहरा है,
जिसमें जज़बात जम गए हैं
गले से लगना तो दूर की बात
लम्स हाथों के गुम गए हैं !
ये सर्द रिश्तों की ऐसी रुत है ...
मौहब्बतों और शफ़क़तों की
उजास लेकर तमाम सूरज चले गए हैं
वो गर्मजोशी के खिलते फूलों की
भीनी ख़ुशबू कहीं नहीं है
वो रंग बातों का, उड़ती ख़ुशरंग तितलियों सा,
कहीं नहीं है
ये शामे तन्हाई ये ख़मोशी,
है सारा मन्ज़र मिटा मिटा सा
चराग़े हस्ती की लौ है मद्धम
ये जल रहा है मगर बुझा सा
उदास दिल ढूँढता है अब भी
मौहब्बतों का हसीन मौसम...
वो जिन्दगी देते सारे रिश्ते...
तड़प के, चाहत के प्यारे रिश्ते...
शमीम ज़हरा
अब तुम को कैसा लगता है
जाड़ों के मौसम का सूरज
गर्मी की रातों का चन्दा
बारिश तुम को बहुत पसन्द थी
जब भी बादल घिर आते थे
लम्बी काली घनेरी ज़ुल्फें
अपने कांधों पर बिखराकर
आंगन में ऐसे फिरती थीं
जैसे कोई हिरनी बन में
देख के काले काले बादल
अपना आपा खो बैठी हो
अब तुमको कैसा------
इक दिन टेलीफोन पे तुमने
नाम मिरा "साहिल" रक्खा था
मैंने हंसकर ये पूछा था
नाम मिरा साहिल क्यों रक्खा
इठला कर तुम ये बोली थीं
हमने अपने दिल की किश्ती
प्यार के दरिया में छोड़ी है
किश्ती को तो इक न इक दिन
साहिल पर रुकना होता है-----
चारों जानिब सन्नाटा है
पलकों पर जुगनू रक्खे हैं
तन्हा बैठा सोच रहा हूँ
तुमने झूट कहां बोला था
मैं ही आज समझ पाया हूँ
साहिल एक कहाँ होता है
साहिल भी तो "दो " होते हैं
-फा़खि़र अदीब
ज़ेहन से महव थे कितने ही परेशान सवाल
पुरसुकूँ वक़्त में धुन्धला सी गई थी दहशत
गुम हुए जाते थे दिल तोड़ते लम्हों के ख़्याल।
सामने धीमे से उतरी है सियह रात अभी
इक घने पेड़ के पीछे हुआ रौशन महताब।
हर नए पल में बदलते हुए कुछ मनज़र हैं
चाँद है या कि खुली है कहीं जादूई किताब।
चौदहवीं रात का शफ़्फ़ाफ़ चमकता हुआ चाँद
आसमाँ ता बा ज़मीं नूर का बहता दरिया।
जैसे चुपके से हरेक शय पे कोई 'इस्म' पढ़े
और कुछ देर में हो जाए सुनहरी दुनिया।
-शमीम ज़हरा
کسی فن پارے پر لکھنا کتنا جاںفشانی کا کام ہے، اس کا کچھ کچھ اندازہ مجھے بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک تنقید نگار کا قلم تحریر کے لیے ہمہ وقت آزاد ہے ، وہ جو محسوس کرتا ہے ،سمجھتا ہے سوچتا ہے، اور اس کو ٹھیک لگتا ہے وہی لکھتا ہے۔ میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ دیانت داری کے ساتھ آپ جیسے زی شعور، اور صاحب دانش اب کم ہی ہیں جو بے باکی کے ساتھ اپنا مطمع نگاہ بیان کرتے ہیں۔میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ایک کم علم شخص ہوں اور محض کچھ تک بندی کرنے کی حد تک شاعر ہوں مگر پھر بھی گزشتہ 50 برسوں سے اردو شاعری کی ہر نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہوں (خواہ وہ نگاہ خام ہی سہی ). دوسرا اعتراف یہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں وائس ٹائپنگ سے ٹائپ کرتا ہوں اردو کی - بورڈ پر ٹائپ کرنے کی مجھے مشق نہیں ہے۔
بہرحال بہت مبارک باد کہ آپ نے شارق کیفی کی جملہ شاعری کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ان کی غزلوں ، ان کی نظموں اور ان کے تخیل پر کھل کر بات کی۔
اپ نے جس نظم کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ یہ محض ہیت کے اعتبار سے نظم ہے تخیل اور فلسفے سے دور ۔ اس کے آخری مصرعے ایک بار پھر پڑھتے ہیں۔
اب مجھے اس زمین پر نہیں لوٹنا
حاضری کے بغیر
اس زمین سے میرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا کہ میں
اک فرشتہ تھا
اور اس جہاں میں غلط آگیا تھا
میری ناقص فہم کے مطابق ایسی نظمیں جن میں ظاہر ہے کہ ہیت تو ہو ہی،مگر جو کسی غیر معمولی تخیل کو لے کر ایک ایسے نفسیاتی موضوع پر لکھیی جائیں یا یوں کہیے کہ کہی جائیں کہ جن کی دسترس یعنی جن موضوعات کی دسترس عوام الناس کو کم ہی میسر ہوتی ہے یا پھر بہت غور کرنے پر وہ سمجھتا ہے، ایک قسم کا فلسفہ رکھتی ہیں۔ زندگی اور موت کا فلسفہ، بیماری اور بیماری کے بعد شفایاب نہ ہونے کا کرب ۔
بس بہت جی لیے۔۔۔۔سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کس بلا کے کرب میں ڈوب کر کہی گئی نظم ہوگی اور ظاہر ہے شاعر کی نگاہ سماج کی اس باریک نبض پر ہوگی جس میں بحیثیت انسان اس کی پہچان بس ایک مریض کی حاضری بھر،کسی ہسپتال میں پکارے جانے بھر رہ گئی ہو۔میں عرض کر دوں یہ جیتا جاگتا مریض، کبھی بے مرض جسم تھا تب اس کی کچھ اور پہچان تھی تب اس کا نام لینے والے اور نام سننے والے کچھ اور لوگ رہے ہوں گے جہاں اس کو اپنا نام اور اپنی پہچان بہت عزیز ہوگی مگر ایک لمبے عرصے تک بیماری سے لاغر ہو جانے کے بعد یہ جسم اب بس نجات چاہتا ہے نجات یعنی موکش۔ شارق کیفی کی اس نظم کی نفسیات اور فلسفہ حیران کر دینے والا ہے۔
میں عرض کر دوں کہ شارق کیفی کے یہاں جو بھی مضامین اپنی نظموں میں برتے گئے ہیں وہ حیران کن حد تک انسانی زندگی کے بہت قریب ہیں، انسانی نفسیات کے بہت قریب ہیں، انسانی دکھوں اور خوشیوں کے بہت قریب ہیں، آلام و آفات کے بہت قریب ہیں، مسائل کے بہت قریب ہیں،اکثر ان نظموں میں متکلم پس پردہ ہے وہ شاعر نہیں ہے بلکہ کسی اور کی زبان اور کسی اور کا احساس ہے۔ یہ حیران کن تجربے کہیں اور دیکھنے کو مشکل سے ہی ملیں گے۔
آپ نے فرمایا کہ یہ" گھسے پٹے" خیالات ہیں۔ قابل احترام پروفیسر صاحب!
اس دنیا کے چپے چپے اور خطے خطے میں سوچنے والے ذہن آباد ہیں جن کے وہی مسائل ہیں جو دوسروں کے ہیں ان کے دکھ درد،ان کے فراق و وصال،ان کی شفایابی اور امراض،ان کی نفسیات،ان کے تجربات،ان کے تجزیات،ان کی اکتاہٹیں،ان کی مسکراہٹیں،ان کے نظریات گویا سب کچھ مشترک ہیں۔اب ان مشترک قدروں میں تقریبا ایک جیسی باتیں سوچی جاتی ہیں۔مضامین وہی رہتے ہیں بس ان کو پیش کرنا اپنے طور پر ان کا تجزیہ کرنا اپنے طریقے سے ان کو سمجھانا اپنے انداز میں ان کو نظم کے پیکر میں ڈھالنا یہ کمال ایک شاعر کا ہوتا ہے۔میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کروں کہ مضامین کی کاشت ممکن نہیں ہے ہاں ان کی دریافت مشکل ہے۔مضامین تو گھسے پٹے ہی رہیں گے مگر کون سے ایسے شعراء ہیں جن کے مضامین اپنی سالمیت کے اعتبار سے اول صف میں کھڑے نظر آئیں
شارق کیفی جب اپنا پہلا مجموعہ کرام عام سا رد عمل ترتیب دے رہے تھے ، تو ادب کا ایک دور آخری سانسیں لے رہا تھا یعنی جدید طرز کی شاعری اختتام پذیر ہو رہی تھی یا ہو گئی تھی اور ما بعد جدید نظریات اور افکار جنم لے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ن م مراشد ، میرا جی یا اور دیگر اسی صف کے شعراء اپنے حصے کا کام کر چکے تھے اب باری تھی ما بعد جدید شعرا کی کہ وہ مسائل کو اپنے طور پر سوچیں اور اپنے طور پر برتیں ، چنانچہ شارق کیفی نے ایسا ہی کیا۔
آپ کا یہ فرمانا کہ کوئی نظم بھاری بھرکم الفاظ سے بڑی نہیں ہوتی یعنی ڈاکٹر ،رجسٹر، بجلی کے جھٹکے وغیرہ ان الفاظ سے کوئی نظم بڑی ہو جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔مگر بہت ادب کے ساتھ میں عرض کر دوں کہ یہ نظم الفاظ سے بڑی نہیں ہوئی ہے نفسیات سے بڑی ہوئی ہے۔ الفاظ تو گویا دست بستہ کھڑے نظر اتے ہیں۔
آپ کا فرمانا سر آنکھوں پر، مگر میری التجا ہے کہ ان نظموں کو ایک بار اپ کی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ اپ نے قبرستان کے نل پر ،مشق، کینسر کے مریض کی بڑ بڑ ، ببلو کا بکرا اور محبت کی انتہا نظم ضرور پڑھی ہوں گی۔ یہ محض مثالیں ہیں کہ ایک شاعر جس کی انگلیاں ایک نباض کی طرح ہمیشہ انسانی نفسیات کی کلائی پر رہتی ہیں، جس کے پاس بیانیہ بہت خاص ہے، مضامین دل میں اتر جانے والے ہیں، نظمیں حیران کر دینے والی ہے۔ کیا آپ ما بعد جدید شاعری کے اس خالق کے اس وصف سے اتفاق نہیں کرتے !
میں عرض کر دوں " محبت کی انتہا " ایک عجیب و غریب انداز میں شروع ہوئی نظم ہے جس میں ایک کم سن بچہ اپنے چین اسموکر والد سے ، شدید محبت کرتا ہے مگر ان کی سگرٹ نوشی سے شدید نفرت کرتا ہے اور محبت اور نفرت کا یہ امتزاج اس نفسیاتی سطح تک آکر ایک ہیبت ناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہیبت ناکی جو ہمہ وقت شاعر کو اس کے والد کے فوت ہو جانے کے خطرے سے باخبر رکھتی ہے۔ یہ نظم شروع بھی بڑے حسین انداز میں ہوئی ہے
پاپا تم مر جاؤ نہ پاپا
میں تم سے نفرت کرتا ہوں
کش تم لیتے ہو
کھانسی مجھ کو آتی ہے۔۔
اس انداز میں نظمیں کہنے والا شاعر میری نظر میں شارق کیفی کے علاوہ دوسرا نہیں ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے :
"میں نے یہ نظمیں بارہا پڑھی ہیں اور ہر بار حیرت زدہ ہوا ہوں یہ نظمیں تقریبا سب کی سب واحد متکلم کی زبان سے ادا کی گئی ہیں۔ لیکن یہ واحد متکلم ایک شخص نہیں۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ کسی ایک شاعر کے تخیل یا اس کی شخصیت میں اتنے سارے متکلم اور اتنی طرح کے متکلم جمع ہو گئے ہوں۔ ڈرامے میں یہ یقینا ممکن ہے اگرچہ یہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔۔۔"
لہذا میں ایک ادنی، ناقص العقل، کم علم قاری ہونے کے باوجود آپ سے التماس کروں گا کہ ان نظموں کو ایک بار پھر پڑھیں ممکن ہے آپ کی آرا میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہو
گزشتہ شب بھی یہ کمنٹ میں پوسٹ کرنا چاہ رہا تھا،مگر کسی تکنیکی دقت کی وجہ سے آپ کی وال پر پوسٹ نہیں ہو سکا۔ چنانچہ اس کو اپنی وال پر پوسٹ کر کے اپ کو ٹیگ کر رہا ہوں شکریہ
سہیل آزاد
जो जले हैं उम्र भर यारों चराग़ों की तरह
वो रहे सब की निगाहों में उजालों की तरह
मात खाते हैं हमेशा होशियारों की तरह
लोग भूले हैं उन्हें अदबी रिसालों की तरह
वो ख़िज़ाओं में रहे हरदम बहारों की तरह
थाम के दिल बैठ जाएं हम बेचारों की तरह
अपनी फितरत है मियाँ नद्दी के धारों की तरह
हो गए वीरान हम उर्दू इदारों की तरह
हम चमक उठेंगे रातों को सितारों की तरह
लौट के आएंगे वो इक रोज़ यारों की तरह
इरशाद अज़ीज़
यूँ ही न मुस्लिमीन का जज़्बा हुसैन हैं
इस्लाम के उरूज का चेहरा हुसैन हैं
इस्लाम के दरख़्त का साया हुसैन हैं
क़ल्बों में देखो आज भी ज़िंदा हुसैन हैं
दुखते हुए दिलों का सहारा हुसैन हैं
ईमाँ, सुकूँ, ग़ुरूर हमारा हुसैन हैं
इस्लाम के फ़लक पे सितारा हुसैन हैं
जन्नत की वादियों का नज़ारा हुसैन हैं
मंज़िल अगर ख़ुदा है तो रस्ता हुसैन हैं
ज़ाते-हक़ का है आईना मुरशिद।
मुर्तज़ा मुस्तफ़ा ख़ुदा मुरशिद।
ذاتِ حق کا ہے آئینہ مرشد۔
مرتضیٰ مصطفیٰ خدا مرشد۔
दीनो-दुन्या की हर अता मुरशिद।
मज़हरे-हक़्क़ो हक़नुमा मुरशिद।
دین و دنیا کی ہر عطا مرشد۔
مظہرِ حق و حق نما مرشد۔
मरकज़े-रुश्द ओ हिदायत हैं,
रहबरो-हादी रहनुमा मुरशिद।
مرکزِ رشد و ہدایت ہئیں،
رہبر و ہادی رہنما مرشد۔
आप को पाया साहिबे-मंज़िल,
ता ज दा रे-फ़ ना बक़ा मुरशिद।
آپ کو پایا صاحبِ منزل،
تاجدارِ فنا بقا مرشد۔
जामो-मीना-है और मयकश है,
मयकदा मय है साक़िया मुरशिद।
جام و مینا ہےاورمئکش ہے،
میکدہ مئے ہے ساقیا مرشد۔
इस्म-आज़म है नाम, चहरे से,
दोनों आलम का मुद्दआ मुरशिद।
اسم اعظم ہےنام،چہرےسے،
دونوں عالم کا مدعا مرشد۔
बरहमन साक़िया इमाम हो तुम,
कितने पाकीज़ा पारसा मुरशिद।
برہمن ساقیا امام ہو تم،
کتنے پاکیزہ پارسا مرشد۔
हों फ़ना फ़िर्रुसुल फ़ना फ़िल्लाह,
काश! कर लें मुझे फ़ना मुरशिद।
ہوں فنا فی الرسل فنافی اللہ،
کاش!کر لیں مجھے فنا مرشد۔
हाथ पकड़े रहो अक़ीदत से,
ला मकाँ का हैं रास्ता मुरशिद।
ہاتھ پکڑے رہو عقیدت سے،
لامکاں کاہئیں راستہ مرشد۔
है यदुल्लाह फ़ौक़ ऐदीहिम,
दस्त दस्ते-ख़ुदा तिरा मुरशिद।
ہے ید اللہ فوق ایدیہم،
دست دستِ خداترا مرشد۔
बुतशिकन, बुतपरस्,बुतों वाला,
एक सूरत का बुतकदा मुरशिद।
بتشکن بتپرس بتوں والا،
ایک صورت کابتکدہ مرشد۔
ताक चहरा "बहार" सुब्हो-मसा,
ला पता का हसीं पता मुरशिद।
تاک چہرہ بہآرصبح ومسا،
لا پتہ کا حسیں پتہ مرشد
ملک کی 32 فیصد آ بادی غریبی سطح کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ، جو فصل کاٹے جانے کے بعد کھیت میں بچے ہوئے اناج اور بازار میں پڑی گلی سڑی سبزیاں سمیٹ کر کسی طرح اس سے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔بڑے شہروں میں بھی بھوک سے بے حال لوگوں کو کوڑے دانوں میں سے روٹی یا بریڈ کے ٹکڑوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ روزگار کی کمی اور غریبی کی مار کی وجہ سے کتنے ہی خاندان چاول کے کچھ دانوں کو پانی میں ابال کر پینے کو مجبور ہیں۔ ایک طرف گوداموں میں لاکھوں ٹن اناج سڑتا ہے تو دوسری طرف لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے ہیں۔ایسی حالت کے لیے کیا انتظامیہ سیدھے طور پر قصوروار نہیں ہے؟اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت بل کو منظور کرانے کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائے کہ اس منصوبے پر ایمانداری سے عمل ہو۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک غریبوں کی بھلائی کے لیے منصوبے تو کئی بنائے گئے ہیں لیکن لال فیتہ ہی کی وجہ سے وہ محض کاغذوں تک ہی سمٹ کر رہ گئے ۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے تو اسے قبول کرتےہوئے یہاں تک کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے چلا ایک روپیہ غریبوں تک پہنچتے پہنچتے پندرہ پیسے ہی رہ جاتا ہے۔
ملک میں ہر روزقریب سوا آٹھ کروڑ لوگ بھوکے سوتے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اناج کی بربادی پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اپناتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا تھا کہ گیہوں کو سڑانے سے اچھا ہے، اسے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کورٹ نے اس بات پر بھی حیرانی جتائی تھی کہ ایک طرف اتنی بڑی تعداد میں اناج سڑ رہا ہے، وہیں تقریبا 20 کروڑ لوگ قلت غذا کے شکار ہیں۔ گزشتہ سال 12 اگست کو سماعت کے دوران جسٹس دلویر بھنڈاری اور جسٹس دیپک ورما کی بنچ نے حکومت کو حکم جاری کیا تھا کہ ہر صوبے میں ایک بڑا گودام بنایا جائے اور ہر ایک ڈویژن ، ضلع میں بھی گودام بنائے جائیں، کورٹ نے یہ بھی کہا کہ خشک سالی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو مضبوط کیا جائے۔ساتھ ہی یہ یقینی بنایا جائے کہ مناسب قیمت کی دکانیں مہینے بھر کھلی رہیں۔ اس سے پہلے 27 جولائی کو سنوائی میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہوں، وہاں اناج کا ایک بھی دانا بیکار چھوڑنا گناہ ہے۔ مگر کورٹ کے حکم پر کتنا عمل ہوا، کسی سے چھپا نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ ماہ تک پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت لوگوں کو اناج تقسیم کیا گیا، لیکن اس میں بھی دھاندلی کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔
پچھلے کافی عرصے سے ہر سال لاکھوں ٹن گیہوں برباد ہو رہا ہے۔ بہت سا گیہوں کھلے آسمان کے نیچے بارش میں بھیک کر سڑ جاتا ہے۔ وہیں گوداموں میں رکھے اناج کا بھی 15 فیصد حصہ ہر سال خراب ہوجاتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، انڈین فوڈ کارپوریشن (ایف سی آئی) کو گوداموں میں سال 1997 سے 2007 کے دوران 1.83 لاکھ ٹن گیہوں، 6.33 لاکھ ٹن چاول ، 2.20 لاکھ ٹن دھان اور 111 ٹن مکا سڑ چکا ہے۔ اتنا ہی نہیں ، کولڈ اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے ہر سال تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کی سبزیاں اور پھل بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق، پچھلے چھ برسوں میں پورے ملک کے گوداموں میں 10 لاکھ 37 ہزار 738 ٹن اناج سڑ چکا ہے۔ ساتھ ہی ان گوداموں کی صفائی پر تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ایف سی آئی کے مطابق، پچھلے سال جنوری تک 10,688 لاکھ ٹن اناج خراب ہو چکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال دو لاکھ ٹن اناج خراب ہو جاتا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق، پچھلے سال سرکاری ایجنسیوں نے چھ کروڑ ٹن اناج خریدا، جبکہ گودام میں 447.09 لاکھ ٹن اناج رکھنے کی صلاحیت ہے۔ ایسے میں باقی بچے اناج کو کھلے آسمان کے نیچے رکھا گیا ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 28 ہزار کروڑ روپے کا اناج کھلے میں پڑا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک تو پہلے ہی گوداموں کی کمی ہے، اس کے باوجود سرکاری گوداموں کو پرائیویٹ کمپنیوں کو کرائے پر دے دیا جاتا ہے اور اناج کھلے میں سڑتا رہتا ہے۔ جن گوداموں میں اناج رکھنے کی جگہ بچی ہوئی ہے،لا پرواہی کی وجہ سے وہاں بھی اناج نہیں رکھا جاتا ہے۔ کھلے میں پڑے اناج کو ترپال یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھک دیا جاتا ہے، لیکن بارش اور پانی بھر جانے کی وجہ سے اناج محفوظ نہیں رہ پاتا۔ پانی میں بھیگے اناج میں کونپل پھوٹنے لگتی ہے اور کچھ دنوں بعد سڑ جاتا ہے۔گوداموں میں رکھے اناج کو کیڑوں اور چوہوں سے بچانے کے بھی انتظام نہیں کیے جاتے، جس سے اناج میں کیڑے لگ جاتے ہیں اور اناج کو چوہے کھا جاتے ہیں۔ افسران کے ذریعہ چوری چھپے سرکاری اناج بیچنے کے الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ گوداموں سے کم ہوا اناج چوہوں کے حصے میں لکھ دیا جاتا ہے۔
حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک طرف ملک کے پاس اناج کا اتنا ذخیرہ ہے کہ اسے رکھنے تک کی جگہ نہیں ہے، دوسری طرف ملک کی ایک بڑی آبادی کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہو پاتا ہے۔ یہ آبادی فاقہ کشی کی لپیٹ میں ہے ۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں انٹرنیشنل فوڈ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے 88 ملکوں کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کو 66 ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔ہندوستان کے اندر پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کی خوراک میں کمی آئی ہے۔دیہاتی علاقوں میں ہر آدمی کی اوسطاً خوراک 1972-1973 میں 2266 کیلوری یومیہ تھی، جو اب کم ہو کر 2149 رہ گئی ہے۔ ملک میں آبادی 1.9 فیصد کے اوسط سے بڑھی ہے، وہیں غذائی پیداوار 1.7 فیصد کے اوسط سے کم ہوا ہے۔
قومی خاندانی صحت سروے کی رپورٹ کے مطابق ، ملک میں 46 فیصد بچے انیمیا کا شکار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میںتین سال سے کم عمر کے قریب 47فیصد بچے کم وزن کے شکار ہیں۔اس کی وجہ سے ان کی جسمانی نشو و نما بھی رک گئی ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں 33.1 فیصد بچے انیمیا کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش میں 60.3 فیصد، جھارکھنڈ میں 59.2 فیصد ، بہار میں 58 فیصد، چھتیس گڑھ میں 52.2 فیصد، اڑیسہ میں 44 فیصد، راجستھان میں 44 فیصد، ہریانہ میں 41.9 فیصد، مہاراشٹر میں 39.7 فیصد ،اتراکھنڈ میں 38 فیصدی، جموں و کشمیر میں 29.4 فیصد اور پنجاب میں 27 فیصد بچے انیمیا کی زد میں ہیں۔یونیسیف کے ذریعہ جاری ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا کے کل انیمیا زدہ بچوں میں سے ایک تہائی آبادی ہندوستانی بچوں کی ہے۔ہندوستان میں پانچ کروڑ 70 لاکھ بچے انیمیا کے شکار ہیں۔ پوری دنیا میں کل 14 کروڑ 60 لاکھ بچے انیمیا کی زد میں ہیں۔ اس اضافے کی موجودہ رفتار ایسی ہی رہی تو 2015 تک انیمیا کا اوسط آدھا کر دینے کا ہدف 2025 تک بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ رپورٹ میں ہندوستان میں انیمیا کے اوسط کا مقابلہ دیگر ملکوں سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں انیمیا کا اوسط ایتھوپیا ، نیپال اور بنگلہ دیش کے برابر ہے۔ ایتھوپیا میں انیمیا کااوسط 47 فیصد اور نیپال اور بنگلہ دیش میں 48-48 فیصد ہے، جو چین کے آٹھ فیصد، تھائی لینڈ کے 18 فیصد اور افغانستان کے 39 فیصد کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔
مرکزی حکومت نے غذائی پیداوار میں آئے ٹھہرائو اور بڑھتی آبادی کی غذائی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اگست 2007 میں مرکز ی اسپانسرڈ غذائی تحفظ مشن اسکیم شروع کی تھی،اس کا مقصد گیہوں، چاول اور دال کی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ ملک میں غذائی تحفظ کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔ قومی غذائی تحفظ مشن کے تحت چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے 14 ریاستوں کے 136 ضلعوں کومنتخب کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اڑیسہ ، تمل ناڈو، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ گیہوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 9 ریاستوں کے 141 ضلعوں کو منتخب کیا گیا۔ ان ریاستوں میں پنجاب ، ہریانہ، اتر پردیش ، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اسی طرح دال کی پیداوار بڑھانے کے لیے14 ریاستوں ، کے 171 ضلعوں کو منتخب کیا گیا۔ ان ریاستوں میں آندھرا پریش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر، اڑیسہ راجستھان، تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ان ضلعوں کے 20 ملین ہیکٹیئر دھان کے علاقے، 13 ملین ہیکٹیئر گیہوں کے علاقے اور 4.5 ملین ہیکٹیئر دال کے علاقے شامل کیے گئے ہیں۔ جو دھان اور گیہوں کے کل بوائی علاقے کا 50 فیصد ہے۔ دال کے لیے مزید 20 فیصدی علاقے تیار کیے جائیں گے۔در اصل بڑھتی مہنگائی نے کم آمدنی والے طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا بھی مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے میں صرف ٖغذائی تحفظ بل بنانے سے کچھ خاص ہونے والا نہیں ہے۔ حکومت کو ہر اعتبار سے عوام کی بنیادی سہولتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
صوبائی وزیر برائے محنت اور روزگار ہریش راوت کے مطابق، 31مارچ تک دو لاکھ 88ہزار 462بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے اور ان کی بازآبادکاری کے لئے 7015.46لاکھ روپے مہیا کرائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر ضلع میں سروے کرانے کے لئے مختلف ریاستی حکومتوں کو 676لاکھ روپے دئے جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایات کے مطابق بندھوا مزدورسسٹم استیصال قانون 1976کے تحت عمل درآمد کی نگرانی کے لئے لیبر اینڈ امپلائمنٹ سکریٹری کی صدارت میں ایک خصوصی گروپ بھی تشکیل کیا گیا ہے، جس کی اب تک علاقہ در علاقہ 18میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ حکومت نے 1980میں اعلان کیا تھا کہ اب تک ایک لاکھ 20ہزار 500بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔ لیبراینڈ امپلائمنٹ منسٹری کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں19ریاستوں سے 31مارچ تک دو لاکھ 86ہزار 612بدھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں آزاد کرایا گیا۔ نومبر تک صرف ایک ہی ریاست اتر پردیش میں سے 28ہزار 385میں سے صرف 58بندھوا مزدوروں کو بازآباد کیا گیا، جبکہ بقیہ 18ریاستوں میں ایک بھی بندھوا مزدوروں کی نو آبادکاری نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، ملک میں سب سے زیادہ تمل ناڈو میں65ہزار 573بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کر کے انہیں آزاد کرایا گیا۔ کرناٹک میں 63ہزار 437اور اڑیسہ میں 50ہزار 29بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 19ریاستوں کو 68کروڑ 68لاکھ 42ہزار روپے کی مرکزی امداد مہیا کرائی گئی، جس میں سب سے زیادہ رقم 16کروڑ 61لاکھ 66ہزار 94روپے راجستھان کو دئے گئے۔ 15کروڑ 78لاکھ 18ہزار روپے کرناٹک اور 9کروڑ 3 لاکھ 34ہزار روپے اڑیسہ کو مہیا کرائے گئے۔ اسی میعادکے دوران سب سے کم مرکزی امداد اتراکھنڈ کو مہیا کرائی گئی۔ اتر پردیش کو 5 لاکھ 80ہزار روپے کی مرکزی امداد فراہم کرائی گئی۔ علاوہ ازیں ارونا چل پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی، گجرات اور اتراکھنڈ کو 31مارچ 2006تک بندھوا بچوں کا سروے کرانے اور بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے پروگرام کرنے کے لئے 4کروڑ 20لاکھ روپے دئے گئے۔لیبر منسٹری کے ڈائریکٹر جنرل انل سوروپ کے مطابق بندھوا مزدوروں کی بازآبادکاری کے لئے، انہیں آزاد کرنے کے بعدفوری طور پرہر مزدورکو ایک ہزار روپے کی فوری امداد،19ہزار روپے کی بازآبادکاری امداد، رہائش، زراعتی زمین اور روزگار کے وسائل مہیا کرانے کی تجویز ہے۔راجستھان کے چیف سکریٹری برائے لیبر اینڈ پلاننگ منوہر کانت کے مطابق، ریاست میں1976سے اب تک 11ہزار 319بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 9ہزار 112مزدوروں کی بازآبادکاری کی گئی، جبکہ 1467کو دیگر دوسری ریاست میں بازآبادکاری کے لئے بھجوایا گیا۔ ریاست میں بندھوا مزدور رکھنے والوں کے خلاف 370چالان پیش گئے گئے، جن میں137معاملے خارج، 75میں جرمانہ،56معاملوں میں سزا دی گئی اور 102معاملوں میں ملزمین کو بری کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ راجستھان میں عمارت اور دیگر تعمیری ورکرس ویلفیئر ایکٹ کے تحت 50لاکھ آلات کی شکل میں وصول کئے گئے اور 7ہزار 497مزدوروں کا رجسٹریشن کیا گیا۔
جے پور کے سانگانیر میں مزدوری کا کام کر رہے ستیہ پرکاش نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ الور کے ساگر اینٹ بھٹے پر کام کرتا تھا، جہاں اسے کنبہ سمیت بندھوا مزدور کے طور پر رکھا گیا تھا۔ ٹھیکیدارانہیں نہ تو پوری مزدوری دیتے تھے اور نہ اسے جانے دیتے تھے۔ یہاں مزدوروں سے 15سے 16گھنٹے کام کرایا جاتا ہے۔ ان مزدوروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔گزشتہ مئی ماہ میں بندھوا مکتی مورچہ کی شکایت پر ایس ڈی ایم، نائب تحصیلدار اور لیبر انسپکٹر نے ریونیو اسٹاف کے ساتھ بھٹے پر چھاپہ مار کر مزدوروں کو آزاد کرایا۔ستیہ پرکاش کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مزدوروں کو بھی آزاد کرایا گیا۔انتظامیہ نے انہیں بقایہ ادائیگی کے علاوہ کرایا بھی دلوایا۔ ملک میں ایسے ہی کتنے بھٹے اور دیگر کاروباری دھندے ہیں، جہاں مزدوروں کو بندھوا بنا کر ان سے سخت محنت کرائی جاتی ہے اور مزدوری کے عوض میںبرائے نام پیسے دئے جاتے ہیں، جن سے انہیں دو وقت کی بھرپیٹ روٹی تک نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے،لیکن جب بندھوا مکتی مورچہ جیسی تنظیموں کے ذریعہ انتظامیہ پر دبائو بنایا جاتا ہے تو افسران نیند سے بیدار ہوتے ہیںاور کچھ جگہوں پر چھاپہ ماری کی رسم ادا کر لیتے ہیں۔ مزدور سریندر کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو ٹھیکیداروں کی من مانی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ انہیں ہر روز کام نہیں مل پاتا، اس لئے وہ کام کی تلاش میں اینٹ بھٹوں کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں بھی انہیں غیر انسانی صورتحال میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مزدور بیمار ہو جائے تو اسے دوا ملنا تو دور ، آرام تک کرنے نہیں دیا جاتا ۔
دراصل، انگریزی دور حکومت میں نافذ کئے گئے زمینی بندوبست نے ہندوستان میں بندھوا مزدوری کی بنیادڈالی تھی۔اس سے پہلے تک زمین کو جوتنے والا زمین کا مالک ہوتا تھا۔ زمین کی ملکیت پر راجائوں اور جاگیرداروں کا کوئی دعویٰ نہیں تھا۔ انہیں وہی ملتا تھا، جو ان کا واجب حق ہوتا تھا اور یہ کلپیدوار کا ایک فیصد حصہ ہوتا تھا۔ کسان ہی زمین کے مالک ہوتے تھے۔ حالانکہ زمین کا اصلی مالک راجا تھا۔ پھربھی ایک بار جوتنے کے بعد ملکیت کسان کے ہاتھ میں چلی گئی۔ راجا کی بادشاہت اور کسان کی ملکیت کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی تنازعہ نہیںہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی گئی، لیکن کسانوں کی زمین کی ملکیت پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا، راجا اور کسانوں کے درمیان کوئیثالث بھی نہیں تھا۔ زمینی نظم ٹھیک سے چلانے کے لئے راجا گائووں میں مکھیا مقرر کرتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی گئی اور زمین کے مالک کا درجہ رکھنے والا کسان محض زراعتی مزدور بن کر رہ گیا۔
کہنے کو تو لیبر سسٹم ایکٹ 1976کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی بندھوا مزدوری پر پابندی عائد ہو چکی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیبر قانونوں کی لچک کے سبب مزدوروں کے استحصال کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی ہمارے ملک میں مزدوروں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے۔ خواندگی اور بیداری نہ ہونے کے سبب اس طبقہ کی جانب کسی کا دھیان نہیں گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے، تاکہ مزدوروں کو استحصال سے نجات مل سکے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مزدور بھی اس ملک کی آبادی کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ملک کی ترقی کی علامت بنیں فلک بوس عمارتوں میں ان کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔













.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)


