ثمر خانہ بدوش کا شمار ان شعرائے کرام میں ہوتا ہے کہ جو بیک وقت ہندی اردو عربی فارسی اور انگریزی پر دسترس رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ کوئی شخص اگر multiple languages کا علم رکھتا ہے تو اس کا دائرہ فکر بہت وسیع ہوگا۔یہی نہیں ، بلکہ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ ایک فطری شاعر یعنی ایک آمد کا شاعر اپنے مضامین اپنے تخیل اور اپنے طرز بیان میں بڑی حد تک آورد کے شاعر سے مختلف ہوتا ہے۔
ثمر صاحب کو میں لمبے عرصے سے ملٹی میڈیا کی وساطت سے جانتا ہوں اور آپ کے کلام
سے متعارف ہوں۔ ایک بار فیس بک پر ایک غزل پڑھی تھی جس کے چند شعر آج بھی یاد ہیں
خانہ بدوش ہیں ضرور ایسا نہیں کہ گھر نہیں
تھوڑے سے دربدر تو ہیں اتنے بھی در بدر نہیں
اے خضر راہ ! یہ بتا کتنا چلے گا اور ابھی
جسموں ہی کا سفر تو ہے روحوں کا یہ سفر نہیں
بہکے ضرور تھے کبھی ہم منزلوں کی چاہ میں
لیکن حضور عشق اب کیا اپنی راہ پر نہیں
اس غزل نے اور خصوصا اس مطلع نے مجھے اپنے سحر میں لے لیا تھا پھر میں لگاتار خانہ بدوش صاحب کے کلام کی جستجو میں لگا رہا،حت الوسع پڑھتا رہا، اور یہ پاتا رہا کہ اس شاعر کے یہاں کچھ بات تو بہت خاص ہے جو پڑھنے والے کے دل پر سیدھی اثر انداز ہوتی ہے۔
خانہ بدوش صاحب نے اپنے مجموعہ کلام میں کچھ غزلیں اس انداز کی رکھی ہیں کہ جن کو پڑھتے ہوئے ہندوستان کی پرانی تہذیب اور تمدن اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگانے لگتی ہے
اندر جالی ،منتر پھوکا عقل کے ظلمت خانوں پر
اور صوامت گھول کے مارے دل کے روشندانوں پر
عشق کے ہم آسیب زدہ ہیں اور ایسے آسیب زدہ
عامل، بابا چھوڑ نہ پائے کوئی اثر دیوانوں پر
عشق میں ہم بس کانھا جی کو اپنا مرشد پاتے ہیں
اپنا اک اک چند ہے بھاری قیس کے سب افسانوں پر
خانہ بدوش صاحب کے ہاں دو چیزیں بڑی شدومد کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں ایک عشق اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ اور معنوی سمتوں ساتھ جلوہ گر ہے دوسرے شاعر نے جن مضامین کو شعر کے پیکر میں ڈھالا ہے وہ گویا رقص کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
میری زندگی کا اکثر حصہ مختلف کوہستانی سلسلوں پر بسر ہوا ہے اور میں نے وہاں کی تہذیب،وہاں کا سکوت،وہاں کے موسم، وہاں کی سادہ لوحی اور وہاں ٹھاٹے مارتے دریا اپنی روح میں جذب ہوتے دیکھے ہیں۔ اگر ان تمام مناظر سے عرق کشید کیا جائے اور اس سے خانہ بدوش صاحب کی شاعری کو علامتی طور پر دھو دیا جائے تو وہ مضامین پیدا ہوں گے جس کا ذکر میں نے سطور بالا میں کیا ہے۔
ثمر صاحب کے یہاں احساس ہے مگر اپنی حتمی آب و تاب کے ساتھ ، نغمگی ہے،الفاظ کی نشست و برخاست اور تخیل کی ہمہ گیری نے ایک وجدان پیدا کر دیا ہے جو ہر پڑھنے والا یا ان کو سننے والا بہت آسانی سے محسوس کر سکتا ہے۔ یہ وجدان دیر پا اثر چھوڑنے والی کیفیت ہے کوئی مختصر واقعہ نہیں۔
خانہ بدوش صاحب کے کلام سے گزرتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ اپ ایسی پرکشش وادی سے ہو کے گزر رہے ہیں جہاں ہوائیں اور فضائیں رقصاں ہیں اور جہاں دریا گویا اپنی دھن میں بانسری بجاتا ہوا ساکت و جامد کھڑا ہے۔خانہ بدوش صاحب کے کلام سے گزرتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ اشعار بڑے حسین ہیں بڑے دلکش مضامین بنانے والے، کسی بڑے کینوس پر آفاقی تصویریں ابھارنے والے۔ یہ وہ روایتی غزلیں نہیں ہیں کہ جن سے اکثر مجموعہ ہائے کلام بھرے پڑے ہیں بلکہ ان غزلوں کو،ان شعروں کو ٹھہر ٹھہر کے،رک رک کے پڑھنا پڑتا ہے ہے۔ ان میں جہاں ایک طرف احساس کی شدت ہے ،تو وہیں تخیل کی ندرت ہے۔ساتھ ہی ساتھ ان اشعار کو کہنے کا جو ڈھنگ ہے یا جو ڈھب ہے وہ بھی بڑا نادر ہے ،بہت پر کیف ،بہت پراثر۔
یوں ہی ممکن نہیں اک جاپہ بسیرا میرا
خانہ بردوش ہوں بستی نہ قبیلہ میرا
شہر سے دور درندوں میں بسوں گا جا کر
کوئی کھائے گا تو ہم جنس نہ ہوگا میرا
اے میری خانہ بدوشی مجھے تنہا نہ یوں چھوڑ
تیری سانسوں سے ہے آباد یہ صحرا میرا
مندر میں جب رات کو گھنٹی بجتی ہے
بوڑھی اماں اٹھ کے تہجد پڑھتی ہے
پن گھٹ پر اک رام دلاری عصر کے وقت
سن کے اذانیں سر پہ مٹکا رکھتی ہے
سر نگوں ہے شرم سے انسانیت
کھا گیا انسان کو انسان دیکھ
ملی اجداد سے میرے یہی میراث ہے مجھ کو
میں ایک مزدور کا بیٹا ہوں محنت کر کے کھاتا ہوں
میرے بچے مجھے جب شام کوآتا ہوا دیکھی
خوشی سے مسکراتے ہیں میں غم میں ڈوب جاتا ہوں
دیوانو! چلے آؤ کہ جو بن پہ ہے موسم
بدمست عناصر کو تہ خاک کریں گے
خاموش کیوں ہو میاں بولنا ضروری ہے
برو تیغ فشاں بولنا ضروری ہے
یہی ہے مقصد تشکیل منبر و محراب
یہی ہے سر اذاں بولنا ضروری ہے
ٹمر خانہ بدوش کے یہاں انسانی قدروں کی پامالی بے گھری کا درد، بے سد و سامانی کے اصل معنی، گنگا جمنی تہذیب کے احیائے نو کی فکر اور سماج کی بے راہ روی پر اظہار افسوس بھی بڑے سلیقے سے ملتا ہے۔سلیقے سے میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بعض جگہ یہی مضامین اپنی خام شکلوں میں کچھ اس طرح پڑھنے کو ملتے ہیں گویا کسی صحافی نے کسی اخبار کا اداریہ لکھا ہو۔مگر خانہ بدوش نے اس کو احساس و جذبات کی آنچ پر بلکہ دھیمی آنچ پر خوب پکا کر شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔
آپ کا کلام روایتی کلام سے بڑی حد تک ممتاز ہے، مگر انفرادیت کی فکر میں اپ نے کلاسیکی روایتوں کے بدن پر پاؤں نہیں رکھا ہے یعنی اس ان قدروں کو پامال نہیں کیا ہے۔
قصہ محرومی دل کیسے سناؤ گے مجھے
جاؤ بس رہنے دو کیا اور رلاؤ گے مجھے
چین سے اس دنیا میں تب ہی جی پاتے ہم خانہ بدوش
ارماں زیر پا ہونے تھے خواہش زیر سناں ہونی تھی
خانہ بدوش کے ہاں جو کرب ہے وہ دل کے بکھر جانے،انسان کی بے اعتنائی، بے جان رشتوں کو ڈھونے اور کسی غم شناس کی فہم کے خام ہونے کا بھی بہت ہے۔
ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اس مجموعے کی طباعت کو انجام دیا ہے۔424 صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ اہل سخن اور شائقان فن کے لیے سامان تازہ کاری فراہم کرے گا۔بہت دعاؤں کے ساتھ
سہیل آزاد
